انبیائے کرام علیہم السلام
طائف سے مکۃ المکرمہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس کی پناہ میں تشریف لائے؟
سوال:۔
کیا جب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے تو آپ کی مکہ مکرّمہ سے شہریت ختم کردی گئی تھی اور پھر آپ کسی شخص کی امان حاصل کرکے مکہ مکرّمہ میں داخل ہوئے تھے؟ اگر ایسا ہے تو اس شخص کا نام بھی تحریر فرمائیں کہ وہ کون شخص تھا؟ ’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ فبعثہ الی المطعم بن عدی لیجیرہ، فقال: نعم ۔۔۔ الخ۔‘‘ (البدایۃ والنھایۃ ج:۳ ص:۱۳۷، أیضًا: سیرۃ المصطفٰی ج:۱ ص:۲۸۱، سیرت کبریٰ ج:۲ ص:۷۰۱۔
جواب:۔
مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ نے ’’سیرۃ المصطفیٰ‘‘ (ج:۱ ص:۲۸۱) میں، مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ نے ’’سیرت کبریٰ‘‘ (ج:۲ ص:۷۰۱) میں طبقات ابنِ سعد کے حوالے سے (سیرتِ مصطفی میں زاد المعاد کا حوالہ بھی دیا گیا ہے) اور حافظ ابنِ کثیرؒ نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ (ج:۳ ص:۱۳۷) میں اُموی کی مغازی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مطعم بن عدی کی پناہ میں تشریف لائے تھے۔ اور پناہ میں آنے کا یہ مطلب نہیں تھا جو آپ نے سمجھا ہے کہ اس سے پہلے مکہ کی شہریت ختم کردی گئی تھی، بلکہ یہ مطلب تھا کہ مطعم بن عدی نے ضمانت دی تھی کہ آئندہ اہلِ مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں ستائیں گے۔(۱)
- (۱) البدایۃ والنہایۃ کی عبارت یہ ہے:
- ’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ فبعثہ الی المطعم بن عدی لیجیرہ، فقال: نعم ۔۔۔ الخ۔‘‘ (البدایۃ والنھایۃ ج:۳ ص:۱۳۷، أیضًا: سیرۃ المصطفٰی ج:۱ ص:۲۸۱، سیرت کبریٰ ج:۲ ص:۷۰۱۔

