انبیائے کرام علیہم السلام
خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شادیوں پر شبہات کی وضاحت
سوال:۔
ہمارے ایک دوست جو بڑے فنکار ہیں، وہ اکثر دین کی باتوں پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں، اکثر و بیشتر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے مسئلے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: میں اس بات پر حیران ہوں کہ اتنی شدید مصروفیات جہاد اور تبلیغِ دین کے باوجود ان کے پاس اتنا وقت کیسے تھا کہ وہ اتنی شادیاں کرتے اور عورتوں کے حقوق ادا کرسکتے تھے۔ ان کے تبصرہ کا میں کیا جواب دوں؟ وضاحت فرمائیں، مجھے شدید افسوس ہوتا ہے!
جواب:۔
یورپ کے مستشرقین نے اپنے تعصب، نادانی اور جہلِ مرکب کی وجہ سے اسلام کے جن مسائل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، ان میں ایک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تعدّدِ ازواج کا مسئلہ بھی ہے، جس پر انہوں نے خاصی زہرچکانی کی ہے۔ ہمارا جدید طبقہ مستشرقین سے مرعوب اور احساسِ کمتری کا شکار ہے، وہ ایسے تمام مسائل میں ۔۔۔جن پر مستشرقین کو اعتراض ہے۔۔۔ ندامت و معذرت کا انداز اختیار کرتا ہے، اس کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ مغرب کے سامنے سرخرو ہونے کے لئے ان حقائق کا ہی انکار کردیا جائے، چنانچہ وہ عقلی شبہات کے ذریعہ ان حقائق کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آپ کے دوست کی گفتگو بھی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، وہ بظاہر بڑے معصومانہ انداز میں یہ پوچھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بیویوں کے حقوق کیسے ادا کرتے تھے؟ لیکن سوال کا منشا اصل واقعہ پر اعتراض ہے۔
بہرحال آپ کے دوست اگر چند اصولی باتیں ذہن میں رکھیں تو مجھے توقع ہے کہ ان کے خدشات زائل ہوجائیں گے۔
۱:۔سب سے پہلے یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ دین کے مسائل کو خوش طبعی اور ہنسی مذاق کا موضوع بنانا نہایت ہی خطرناک مرض ہے۔ آدمی کو شدت کے ساتھ ان سے پرہیز کرنا چاہئے، خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی (جو اہل ایمان کا مرجعِ عقیدت ہی نہیں، مدارِ ایمان بھی ہے)، آپ کے بارے میں لب کشائی تو کسی مسلمان کے لئے کسی طرح بھی روا نہیں۔ قرآن کریم میں ان منافقوں کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جو اپنی نجی محفلوں میں رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو، قرآن کریم کی آیاتِ شریفہ کو طنز و مذاق کا نشانہ بناتے تھے، جب ان سے بازپُرس کی جاتی تو کہہ دیتے: ’’اجی! ہم تو بس یونہی دل لگی اور خوش طبعی کی باتیں کر رہے تھے۔‘‘ ان کے اس ’’عذرِ گناہ، بدتر از گناہ‘‘ کے جواب میں ارشاد ہے:
’’کیا تم اللہ تعالیٰ سے، اس کی آیات سے اور اس کے رسول کے ساتھ دل لگی کرتے تھے؟ بہانہ نہ بناؤ، تم نے دعویٔ ایمان کے بعد کفر کیا ہے!‘‘ (التوبہ: ۶۵، ۶۶)۔(۱)
اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ آیاتِ الٰہیہ کو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ عالی کو دل لگی اور خوش طبعی کا موضوع بنانا کتنا خطرناک ہے، جسے قرآن کریم کفر قرار دیتا ہے! اس لئے ہر مسلمان سے، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، میری ملتجیانہ درخواست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول و فعل کو اپنے ظریفانہ تبصروں کو موضوع بنانے سے مکمل پرہیز کریں، ایسا نہ ہو کہ غفلت میں کوئی غیرمحتاط لفظ زبان سے نکل جائے اور متاعِ ایمان برباد ہوکر رہ جائے، نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِك!
۲:۔ایک بنیادی غلطی یہ ہے کہ بہت سے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند و بالا ہستی کو اپنی سطح پر غور و فکر کرتے ہیں اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات اپنی ذہنی سطح سے اونچی دیکھتے ہیں تو ان کا ذہن اسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے اور جن کمالات و خصوصیات سے آپ کو نوازا ہے وہ ہمارے فہم واِدراک کی حد سے ماورا ہے، وہاں تک کسی جن و ملک کی رسائی ہے، نہ کسی نبیٔ مرسل کی، جہاں جبریل امین کے پَر جلتے ہوں، وہاں ما و شما کی عقلی تگ و دو کی کیا مجال ہے! آپ کے دوست بھی اسی بنیادی غلطی میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملات سے ناپتے تو انہیں کوئی حیرت نہ ہوتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود اتنی بیویوں کے حقوق کیسے ادا فرماتے تھے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا اپنے اندر اعجاز کا پہلو رکھتی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سے قلیل عرصے میں بتوفیق خداوندی انسانی زندگیوں میں جو انقلاب برپا کیا اور امت کو روحانی و مادّی کمالات کی جس اوجِ ثریا پر پہنچادیا، کیا ساری امت مل کر بھی اس کارنامہ کو انجام دے سکتی ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات ایسی ہے جو اپنے اندر حیرت انگیز اعجاز نہیں رکھتی، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے الفاظ میں: ’’آپ کا کون سا معاملہ عجیب نہیں تھا!‘‘
۳:۔آپ کے دوست کو یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ محض عقلی احتمالات یا حیرت و تعجب کے اظہار سے کسی حقیقت یا واقعے کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً: ایک شخص سر کی آنکھوں سے سورج نکلا ہوا دیکھ رہا ہے، اس کے برعکس ایک ’’حافظ جی‘‘ محض عقلی احتمالات کے ذریعہ اس کھلی حقیقت کا انکار اور اس پر حیرت و تعجب کر رہا ہے۔ اہل عقل اس ’’حافظ جی‘‘ کی عقل و فہم کی داد نہیں دیں گے بلکہ اسے اندھا ہونے کے ساتھ ساتھ ضدی اور ہٹ دھرم بھی قرار دیں گے۔ ٹھیک اسی طرح سمجھئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ازواجِ مطہرات کے حقوق نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ادا کرنا ایک حقیقتِ واقعیہ ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب دنیا سے تشریف لے گئے اس وقت آپ کے یہاں نو بیویاں تھیں، ان میں آٹھ کے یہاں باری باری شب باشی فرماتے تھے (حضرت سودہؓ نے اپنی باری حضرت عائشہؓ کو دے رکھی تھی، اس لئے ان کے یہاں شب باشی نہیں فرماتے تھے) (صحیح بخاری و مسلم، مشکوٰۃ ص:۲۷۹)۔(۲)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت عدل و انصاف کے ساتھ ازواج کے حقوق ادا فرماتے تھے اور پھر یہ دعا کرتے تھے: ’’یا اللہ! جو بات میرے اختیار میں ہے اس میں تو پورا عدل و انصاف سے برتاؤ کرتا ہوں، اور جو چیز آپ کے اختیار میں ہے، میرے اختیار میں نہیں (یعنی کسی بی بی کی طرف دل کا زیادہ میلان) اس میں مجھے ملامت نہ کیجئے!‘‘(۳)(ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، مشکوٰۃ ص:۲۷۹)۔
اس قسم کی بہت سی احادیث صحابہ کرام اور خود امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہیں، گویا یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف ازواجِ مطہراتؓ کے حقوق ادا فرماتے تھے، بلکہ اس میں آپ نے عدل و انصاف کا اعلیٰ ترین معیار قائم کرکے دکھایا، خود اِرشاد فرماتے تھے:
’’تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے گھر والوں کے لئے تم سب سے بہتر ہوں!‘‘(۴) (ترمذی، دارمی، ابن ماجہ، مشکوٰۃ ص:۲۸۱)
اب اس ثابت شدہ حقیقت پر حیرت و تعجب کا اظہار کرنا اور اس سے انکار کی کوشش کرنا اس پر وہی ’’حافظ جی‘‘ کی مثال صادق آتی ہے جو آنکھیں بند کرکے محض عقلی احتمالات کے ذریعہ طلوعِ آفتاب کی نفی کی کوشش کر رہا ہے۔
۴:۔اور اگر آپ کے دوست کو اس بات کا شبہ ہے کہ امت کے لئے چار تک شادیوں کی اجازت ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چار سے زائد شادیاں کیسے جائز تھیں؟ تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سے خصوصی احکام دئیے تھے، جن کو اہل علم کی اصطلاح میں ’’خصائصِ نبوی‘‘ کہا جاتا ہے۔ حافظ سیوطیؒ نے ’’الخصائص الکبریٰ‘‘ میں، حافظ ابونعیمؒ نے ’’دلائل النبوۃ‘‘ میں اور علامہ قسطلانی ؒنے ’’مواہب لدنیہ‘‘ میں ان ’’خصائص‘‘ کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع کردیا ہے۔ نکاح کے معاملے میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد خصوصیات تھیں جن کو سورۂ احزاب کے چھٹے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، ان میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ کے لئے چار سے زائد شادیوں کی اجازت تھی۔
ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے پدری و مادری خاندان کی خواتین میں سے صرف اس سے نکاح کرنا جائز تھا جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی جن عورتوں نے ہجرت نہیں کی تھی ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح جائز نہیں تھا۔ ایک خصوصیت یہ تھی کہ اگر کوئی خاتون مہر کے بغیر آپ کے عقد میں آنے کی پیشکش کرے اور آپ اس کو قبول فرمالیں تو بغیر مہر کے آپ کا عقد صحیح تھا، جبکہ اُمت کے لئے نکاح میں مہر کا ہونا ضروری ہے۔ اگر زوجین نے یہ شرط کرلی ہو کہ مہر نہیں ہوگا، تب بھی ’’مہرِ مثل‘‘ لازم آئے گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ بیویوں کے درمیان برابری کرنا آپ کے ذمہ ضروری نہیں تھا (اس کے باوجود آپ ازواجِ مطہراتؓ کے درمیان برابری اور عدل و انصاف کی پوری رعایت فرماتے تھے، جیسا کہ اوپر عرض کرچکا ہوں)،(۵) جبکہ اُمت کے وہ افراد جن کے عقد میں دو یا زیادہ بیویاں ہوں، ان کے ذمہ بیویوں کے درمیان برابری رکھنا فرض ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ:
’’جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان عدل اور برابری نہ کرے وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو مفلوج ہوگا۔‘‘(۶) (ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی، مشکوٰۃ ص:۲۷۹)
الغرض! نکاح کے معاملے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سے خصوصیات تھیں، اور بیک وقت چار سے زائد بیویوں کا جمع کرنا بھی آپ کی انہی خصوصیات میں شامل ہے، جس کی تصریح خود قرآن مجید میں موجود ہے۔
حافظ سیوطیؒ ’’خصائصِ کبریٰ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: شریعت میں غلام کو صرف دو شادیوں کی اجازت ہے، اور اس کے مقابلے میں آزاد آدمی کو چار شادیوں کی اجازت ہے، جب آزاد کو بمقابلہ غلام کے زیادہ شادیوں کی اجازت ہے، تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عام افرادِ اُمت سے زیادہ شادیوں کی کیوں اجازت نہ ہوتی؟(۷)
متعدد انبیاء کرام علیہم السلام ایسے ہوئے ہیں جن کی چار سے زیادہ شادیاں تھیں، چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں منقول ہے کہ ان کی سو بیویاں تھیں،(۸) اور صحیح بخاری (ج:۱ ص:۳۹۵) میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سو یا ننانوے بیویاں تھیں۔ بعض روایات میں کم و بیش تعداد آئی ہے۔ فتح الباری میں حافظ ابن حجرؒ نے ان روایات میں تطبیق کی ہے اور وہب بن منبہ کا قول نقل کیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے یہاں تین سو بیویاں اور سات سو کنیزیں تھیں۔(۹) (فتح الباری ج:۶ ص:۴۶۰)
بائبل میں اس کے برعکس ذکر کیا گیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کی سات سو بیویاں اور تین سو کنیزیں تھیں (۱۔ سلاطین، ۱۱۔۳) ظاہر ہے کہ یہ حضرات ان تمام بیویوں کے حقوق ادا کرتے ہوں گے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نو ازواجِ مطہراتؓ کے حقوق ادا کرنا ذرا بھی محل تعجب نہیں!
۵:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات کے بارے میں یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس جنتی مردوں کی طاقت عطا کی گئی تھی، اور ہر جنتی کو سو آدمیوں کی طاقت عطا کی جائے گی۔ اس حساب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں چار ہزار مردوں کی طاقت تھی۔(۱۰) (فتح الباری ج:۱ ص:۳۷۸)
جب امت کے ہر مریل سے مریل آدمی کو چار تک شادیاں کرنے کی اجازت ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جن میں چار ہزار مردوں کی طاقت ودیعت کی گئی تھی، کم از کم سولہ ہزار شادیوں کی اجازت ہونی چاہئے تھی۔۔۔!
۶:۔اس مسئلہ پر ایک دوسرے پہلو سے بھی غور کرنا چاہئے، ایک داعی اپنی دعوت مردوں کے حلقے میں بلاتکلف پھیلاسکتا ہے، لیکن خواتین کے حلقے میں براہ راست دعوت نہیں پھیلاسکتا، حق تعالیٰ شانہ نے اس کا یہ انتظام فرمایا کہ ہر شخص کو چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے، جو جدید اصطلاح میں اس کی ’’پرائیویٹ سیکریٹری‘‘ کا کام دے سکیں اور خواتین کے حلقے میں اس کی دعوت کو پھیلاسکیں۔ جب ایک امتی کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے یہ انتظام فرمایا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، جو قیامت تک تمام انسانیت کے نبی اور ہادی و مرشد تھے، قیامت تک پوری انسانیت کی سعادت جن کے قدموں سے وابستہ کردی گئی تھی، اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت و رحمت سے امت کی خواتین کی اصلاح و تربیت کے لئے خصوصی انتظام فرمایا ہو تو اس پر ذرا بھی تعجب نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ حکمت و ہدایت کا یہی تقاضا تھا۔
۷:۔اسی کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت و جلوت کی پوری زندگی کتابِ ہدایت تھی، آپ کی جلوت کے افعال و اقوال کو نقل کرنے والے تو ہزاروں صحابہ کرامؓ موجود تھے، لیکن آپ کی خلوت و تنہائی کے حالات امہات المؤمنینؓ کے سوا اور کون نقل کرسکتا تھا؟ حق تعالیٰ شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ان خفی اور پوشیدہ گوشوں کو نقل کرنے کے لئے متعدد ازواجِ مطہراتؓ کا انتظام فرمادیا، جن کی بدولت سیرتِ طیبہ کے خفی سے خفی گوشے بھی امت کے سامنے آگئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت و جلوت کی پوری زندگی ایک کھلی کتاب بن گئی جس کو ہر شخص، ہر وقت ملاحظہ کرسکتا ہے۔
۸:۔اگر غور کیا جائے تو کثرتِ ازواج اس لحاظ سے بھی معجزۂ نبوت ہے کہ مختلف مزاج اور مختلف قبائل کی متعدد خواتین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی سے نجی زندگی کا شب و روز مشاہدہ کرتی ہیں، اور وہ بیک زبان آپ کے تقدس و طہارت، آپ کی خشیت و تقویٰ، آپ کے خلوص و للہیت اور آپ کے پیغمبرانی اخلاق و اعمال کی شہادت دیتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی زندگی میں کوئی معمولی سا جھول اور کوئی ذرا سی بھی کجی ہوتی تو اتنی کثیر تعداد ازواجِ مطہراتؓ کی موجودگی میں وہ کبھی بھی مخفی نہیں رہ سکتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی زندگی کی پاکیزگی کی یہ ایسی شہادت ہے جو بجائے خود دلیلِ صداقت اور معجزۂ نبوت ہے۔ یہاں بطورِ نمونہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ایک فقرہ نقل کرتا ہوں جس سے نجی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقدس و طہارت اور پاکیزگی کا کچھ اندازہ ہوسکے گا۔ وہ فرماتی ہیں: ’’میں نے کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ستر نہیں دیکھا، اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میرا ستر دیکھا(۱۱)۔‘‘ کیا دنیا میں کوئی بیوی اپنے شوہر کے بارے میں یہ شہادت دے سکتی ہے کہ مدۃ العمر انہوں نے ایک دوسرے کا ستر نہیں دیکھا؟ اور کیا اس اعلیٰ ترین اخلاق اور شرم و حیا کا نبی کی ذات کے سوا کوئی نمونہ مل سکتا ہے؟ غور کیجئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی زندگی کے ان ’’خفی محاسن‘‘ کو ازواجِ مطہرات کے سوا کون نقل کرسکتا تھا۔۔۔؟
- (۱) ﵟ وَلَئِن سَأَلۡتَهُمۡ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلۡعَبُۚ قُلۡ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُونَ ٦٥ لَا تَعۡتَذِرُواْ قَدۡ كَفَرۡتُم بَعۡدَ إِيمَٰنِكُمۡۚ ﵞ التوبة ٦٥ و ٦٦
- (۲) عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قُبِضَ عن تسع نسوۃ وکان یقسم منھن لثمان، متفق علیہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۹، باب القسم، الفصل الأوّل)۔ وعن عائشۃ ان سودۃ لما کبرت قالت: یا رسول اللہ! قد جعلت یومی منک لعائشۃ، فکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقسم لعائشۃ یومین، یومھا ویوم سودۃ، متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۷۹، باب القسم)۔
- (۳) عن عائشۃ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یقسم بین نسائہ فیعدل ویقول: اللّٰھم ھٰذا قسمی فیما أملک فلا تلُمْنِی فیما تملک ولَا أملک۔ رواہ الترمذی وابوداوٗد والنسائی وابن ماجۃ والدارمی۔ (مشکوٰۃ ص:۲۷۹ باب القسم، الفصل الثانی)۔
- (۴) وعنھا (أی عائشۃ) قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خیرکم خیرکم لأھلہ، وأنا خیرکم لأھلی۔ رواہ الترمذی والدارمی ورواہ ابن ماجۃ عن ابن عباس۔ (مشکٰوۃ ص:۲۸۱ باب عشرۃ النساء، الفصل الثانی)۔
- (۵) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَحۡلَلۡنَا لَكَ أَزۡوَٰجَكَ ٱلَّٰتِيٓ ءَاتَيۡتَ أُجُورَهُنَّ ﵞ’’مھورھن‘‘ﵟ وَمَا مَلَكَتۡ يَمِينُكَ مِمَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَيۡكَ ﵞ۔۔۔ﵟ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّٰتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَٰلَٰتِكَ ٱلَّٰتِي هَاجَرۡنَ مَعَكَ ﵞبخلاف من لم یھاجرﵟ وَٱمۡرَأَةٗ مُّؤۡمِنَةً إِن وَهَبَتۡ نَفۡسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنۡ أَرَادَ ٱلنَّبِيُّ أَن يَسۡتَنكِحَهَا ﵞ یطلب نکاحھا بغیر صداق،ﵟ خَالِصَةٗ لَّكَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَۗ ﵞ، النکاح بلفظ الھبۃ من غیر صداقﵟ قَدۡ عَلِمۡنَا مَا فَرَضۡنَا عَلَيۡهِمۡ ﵞ ای المؤمنینﵟ فِيٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ ﵞ من الأحکام بأن لَا یزیدوا علٰی أربع نسوۃ ولَا یتزوجوا إلّا بولی وشھود ومھر ۔۔۔ﵟ لِكَيۡلَا يَكُونَ عَلَيۡكَ حَرَجٞۗ ﵞ ضیق فی النکاح،ﵟ تُرۡجِيﵞ٠٠٠٠ تؤخرﵟ مَن تَشَآءُ مِنۡهُنَّ ﵞ أی ازواجک عن نوبتھاﵟ وَتُـٔۡوِيٓ ﵞتضمﵟ إِلَيۡكَ مَن تَشَآءُۖ ﵞمنھن فتأتیھاﵟ وَمَنِ ٱبۡتَغَيۡتَ ﵞطلبتﵟ مِمَّنۡ عَزَلۡتَ ﵞ من القسمۃ ﵟ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكَۚ ﵞ فی طلبھا وضمھا إلیک ۔۔۔ﵟ لَّا يَحِلُّ لَكَ ٱلنِّسَآءُ مِنۢ بَعۡدُ ﵞ التسع اللّاتی اخترتک ۔۔۔ﵟ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ رَّقِيبٗا ٥٢ ﵞ۔ (تفسیر جلالین، ص:۳۵۶ سورۃ الأحزاب آیت:۵۰ تا ۵۲)۔
- (۶) وعن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا کانت عند الرجل إمرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیامۃ وشقہ ساقط۔ رواہ الترمذی وأبوداوٗد والنسائی وابن ماجۃ والدارمی۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۷۹ باب القسم، الفصل الثانی)۔
- (۷) قال العلماء لما کان الحر لفضلہ علی العبد یستبیح من النسوۃ أکثر مما یستبیحہ العبد وجب ان یکون النبی صلی اللہ علیہ وسلم لفضلہ علٰی جمیع الاُمّۃ یستبیح من النساء أکثر ما تستبیحہ الاُمّۃ۔ (الخصائص الکبریٰ ج:۲ ص:۴۲۶، باب إختصاصہ صلی اللہ علیہ وسلم بنکاح أکثر من أربع نسوۃ وھو إجماع، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔
- (۸) ذکر أنہ کان لسلیمان علیہ السلام ثلاث مئۃ إمرأۃ مھریۃ وسبع مئۃ سریۃ وأنہ کان لداوٗد علیہ السلام مأۃ امرأۃ۔ (رُوح المعانی ج:۱۳ ص:۱۶۸، سورۃ الرعد: ۳۸، التفسیر الکبیر ج:۷ ص:۴۹ طبع حقانیۃ)۔
- (۹) عن أبی ھریرۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: قال سلیمان بن داوٗد لأطوفن اللیلۃ علٰی مأۃ امرأۃ أو تسع وتسعین ۔۔۔إلخ۔ (بخاری شریف ج:۱ ص:۳۹۵، کتاب الجھاد، باب من طلب الولد للجھاد)۔ فمحصل الروایات ستون وسبعون وتسعون وتسع وتسعون ومأۃ، والجمع بینھا ان الستین کن حرائر وما زاد علیھن سراری أو بالعکس، وأما السبعون فللمبالغۃ، وأما التسعون والمأۃ فکن دون المأۃ وفوق التسعین فمن قال تسعون ألغی الکسر ومن قال مأۃ جبرہ ومن ثم وقع التردد فی روایۃ جعفر ۔۔۔ وقد حلی وھب بن منبہ (فی المبتداء) أنہ کان لسلیمان ألف امرأۃ ثلاث مأۃ مھریۃ وسبع مأۃ سریۃ ۔۔۔إلخ۔ (فتح الباری ج:۶ ص:۴۶۰، کتاب الأنبیاء، طبع دار نشر الکتب الْإسلامیۃ، لَاہور پاکستان)۔
- (۱۰) اعطیت قوۃ أربعین فی البطش والجماع، وعند أحمد والنسائی، وصححہ الحاکم من حدیث زید بن أرقم رفعہ: ان الرجل من أھل الجنّۃ لیعطی قوۃ مأۃ فی الأکل والشرب والجماع والشھوۃ، فعلٰی ھٰذا یکون حساب قوۃ نبیّنا أربعۃ آلَاف۔ (فتح الباری ج:۱ ص:۳۷۸، طبع دار نشر الکتب الْإسلامیۃ، لَاہور پاکستان)۔
- (۱۱) خصائل نبوی ص:۳۱۹ طبع میزان۔

