بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

معجزۂ شق القمر

سوال:۔

ہمارے یہاں ایک مولوی صاحب جو مسجد کے امام بھی ہیں، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ شق قمر والا جو معجزہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر ہوا تھا، وہ صحیح نہیں ہے اور نہ ہی اس کا ثبوت ہے۔ براہِ کرم اس کے متعلق صحیح احادیث لکھ دیں، تاکہ ان کی تسلی ہو۔ ۔۔۔ قال: خطبنا حذیفۃ بن الیمان بالمدائن فحمد اللہ وأثنٰی علیہ ثم قال: ﵟ ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ ١ ألَا وإن الساعۃ قد اقتربت! ألَا وإن القمر قد انشق۔ (البدایۃ ج:۳ ص:۱۱۹ فصل إنشقاق القمر فی زمان النبی صلی اللہ علیہ وسلم، طبع دار الفکر، بیروت)۔

جواب:۔

شق قمر کا معجزہ صحیح احادیث میں حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت انس بن مالک، حضرت جبیر بن مطعم، حضرت حذیفہ، حضرت علی رضی اللہ عنہم وغیرہم سے مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:

’’إِنْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَیْنِ، فِرْقَۃٌ فَوْقَ الْجَبَلِ وَفِرْقَۃٌ دُوْنَہٗ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِشْہَدُوْا۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۲۱ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۷۳، ترمذی ج:۲ ص:۱۶۱)

ترجمہ:۔’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہوا، ایک ٹکڑا پہاڑ سے اُوپر تھا اور ایک پہاڑ سے نیچے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:

’’إِنْشَقَّ الْقَمَرُ فِیْ زَمَانِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۲۱ واللفظ لہٗ، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۷۳، ترمذی ج:۲ ص:۱۶۱)

ترجمہ:۔’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا۔‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:

’’إِنَّ اَہْلَ مَکَّۃَ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یُّرِیَہِمْ آیَۃً، فَأَرَاہُمْ إِنْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَیْنِ۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۷۲۲، صحیح مسلم ج:۲ ص:۳۷۳ واللفظ لہٗ، ترمذی ج:۲ ص:۱۶۱)

ترجمہ:۔’’اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ کوئی معجزہ دکھائیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ دکھایا۔‘‘

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے:

’’إِنْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِشْہَدُوْا۔‘‘ (صحیح مسلم ص:۳۷۳ ج:۲ ترمذی ص:۱۶۱ ج:۲ واللفظ لہٗ)

ترجمہ:۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہوا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہ رہو۔‘‘

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:

’’إِنْشَقَّ الْقَمَرُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی صَارَ فِرْقَتَیْنِ عَلٰی ہٰذَا الْجَبَلِ وَعَلٰی ہٰذَا الْجَبَلِ، فَقَالُوْا: سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: لَئِنْ کَانَ سَحَرْنَا فَمَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَّسْحَرَ النَّاسَ کُلَّہُمْ۔‘‘ (ترمذی ج:۲ ص:۱۶۴، سورۃ القمر، طبع قدیمی)

ترجمہ:۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند دوٹکڑے ہوا، یہاں تک کہ ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر تھا، اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر۔ مشرکین نے کہا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہم پر جادو کردیا، اس پر ان میں سے بعض نے کہا کہ: اگر اس نے ہم پر جادو کردیا ہے تو سارے لوگوں پر تو جادو نہیں کرسکتا ( اس لئے باہر کے لوگوں سے معلوم کیا جائے، چنانچہ انہوں نے باہر سے آنے والوں سے تحقیق کی تو انہوں نے بھی تصدیق کی)۔‘‘

حافظ ابن کثیرؒ نے البدایۃ والنہایۃ (ج:۳ ص:۱۱۹) میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی نقل کی ہے،(۱) اور حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری (ج:۶ ص: ۶۳۲) میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حدیث کا بھی حوالہ دیا ہے۔(۲)

امام نوویؒ شرح مسلم میں لکھتے ہیں:

’’قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ چاند کا دو ٹکڑے ہوجانا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم ترین معجزات میں سے ہے، اور اس کو متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے، علاوہ ازیں آیت کریمہ: ’’ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ‘‘ کا ظاہر و سیاق بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔

زجاج کہتے ہیں کہ بعض اہل بدعت نے، جو مخالفین ملت کے مشابہ ہیں، اس کا انکار کیا ہے، اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو اندھا کردیا ہے، ورنہ عقل کو اس میں مجال انکار نہیں۔‘‘(۳) (نووی:شرح مسلم ج:۲ ص:۳۷۳)

  1. (۱) البدایۃ والنھایۃ ج:۳ ص:۱۱۹ کی عبارت یہ ہے:
  2. ۔۔۔ قال: خطبنا حذیفۃ بن الیمان بالمدائن فحمد اللہ وأثنٰی علیہ ثم قال: ﵟ ٱقۡتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلۡقَمَرُ ١ ﵞلَا وإن الساعۃ قد اقتربت! ألَا وإن القمر قد انشق۔ (البدایۃ ج:۳ ص:۱۱۹ فصل إنشقاق القمر فی زمان النبی صلی اللہ علیہ وسلم، طبع دار الفکر، بیروت)۔
  3. (۲) قولہ (باب سؤال المشرکین أن یریھم النبی صلی اللہ علیہ وسلم آیۃ، فأراھم إنشقاق القمر) فذکر فیہ حدیث ابن مسعود وأنس وابن عباس فی ذٰلک، وقد ورد إنشقاق القمر أیضًا من حدیث علی وحذیفۃ وجبیر بن مطعم وابن عمر وغیرھم ۔۔۔إلخ۔ (فتح الباری ج:۶ ص:۶۳۲)۔
  4. (۳) قال القاضی: إنشقاق القمر من امہات معجزات نبینا صلی اللہ علیہ وسلم وقد رواھا عدۃ من الصحابۃ رضی اللہ عنھم مع ظاھر الآیۃ الکریمۃ وسیاقھا، قال الزجاج: وقد أنکرھا بعض المبتدعۃ المضاھین لمخالفی الملۃ وذٰلک لما اعمی اللہ قلبہ ولَا إنکار للعقل فیھا۔ (شرح النووی لمسلم ج:۲ ص:۳۷۳، باب إنشقاق القمر، طبع قدیمی کتب خانہ)۔