انبیائے کرام علیہم السلام
انبیائےکرامؑکےفضلاتکیپاکیکامسئلہ
سوال:۔
ہماری مسجد میں گزشتہ جمعہ میں ایک خطیب صاحب نے اپنے وعظ میں یہ فرمایا تھا کہ: ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں پیشاب کرکے ایک صحابی کو دیا کہ اس کو باہر پھینک آؤ، ان صحابی نے باہر جاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کے جذبے میں وہ پیشاب پی لیا، اس کے بعد تمام زندگی ان کے جسم سے خوشبو آتی رہی۔ اس کے بعد خطیب صاحب نے فرمایا: چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بول و براز پاک تھا، اس میں عام انسانوں کی طرح ناپاکی یا بدبو نہ تھی، لہٰذا صحابی کے اس عمل پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔
خطیب صاحب کے اس بیان پر مسجد میں ایک ہنگامہ برپا ہوگیا، اکثر لوگوں نے اس پر اعتراض کیا کہ یہ واقعہ سند سے خالی ہے، ایسے خطیب کی امامت جائز نہیں جو خلافِ سند واقعات بیان کرکے غیرمسلموں کو اسلام پر تنقید کا موقع دے۔ لوگوں کے اعتراضات مندرجہ ذیل تھے:
۱:۔ ایسا کوئی واقعہ مستند کتب میں نہیں ملتا۔
۲:۔ اگر ایسا ہوا بھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں بشریت کی کوئی خصوصیت نہ تھی اور وہ مکمل نوری تھے۔
۳:۔ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کو پیشاب پھینکنے کا حکم دیا تھا تو صحابی کے لئے حکم زیادہ اہمیت رکھتا تھا یا محبت کے جذبات؟
۴:۔ دوسرے مذاہب کے لوگوں پر پیشاب پینے کا اعتراض کیونکر کیا جاسکتا ہے؟ جبکہ وہ بھی عقیدہ رکھتے ہوں کہ ان کے اوتاروں میں بھی ایسے ہی کچھ صفات تھے، وغیرہ وغیرہ۔
مولانا صاحب! آپ اس مسئلہ پر کچھ روشنی ڈالنا گوارا کریں گے، تاکہ لوگوں کو تسلی ہوسکے۔ کیونکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اسلام فطرت کے مطابق ہے، اور پیشاب والا معاملہ انسان کی نظر میں خلافِ فطرت ہے۔ ہم اپنے مذہب کی اشاعت میں غیرمسلموں کو کیسے قائل کرسکتے ہیں؟
سائل کا دُوسرا خط:
محترم! میرے مکتوب کا جواب تو موصول ہوگیا لیکن نامکمل سا ظاہر ہو رہا ہے۔ اصل سوال کا جواب اپنی جگہ قائم ہے۔ یعنی جو واقعہ محترم خطیب صاحب نے بیان کیا تھا، اس کا حوالہ کسی مستند راوی یا کتاب کا درکار تھا۔ میں نے چند معترضین کو آپ کا جواب دکھایا تو وہی سوال کیا گیا کہ اس کتاب اور مصنف کا نام بتایا جائے جس میں اس کا ذکر کیا گیا ہے، بلکہ ایک صاحب نے تو یہ بھی فرمایا کہ: ایک مرتبہ کسی جلسے میں مولانا محمد شفیع اوکاڑوی نے بھی اس واقعے کا ذکر کیا تھا، لیکن جب ان سے اس کی سند مانگی گئی تو وہ بھی نہ دے سکے، بلکہ سند مانگنے والے پر اِیمان کی کمزوری کا فتویٰ صادر کرکے لعنت و ملامت کرنے لگے، جیسا کہ آپ نے اپنے جواب میں فرمایا، یعنی: ’’اس واقعے کو تسلیم کرنے کے بعد مسلمانوں کے ذہن میں سوالات کا پیدا ہونا ضعفِ ایمان، ضعفِ محبت اور ضعفِ علم کی وجہ سے ہے۔‘‘
اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ جو عالم یا خطیب کوئی بھی واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرکے بغیر کسی حوالے کے بیان کردے، اس کو صدقِ دل سے تسلیم کرلیا جائے، ورنہ ضعفِ ایمان کا فتویٰ لگ جائے گا۔ اس طرح تو کچھ علماء ۔۔۔جن کو ہم علماء سوء ہی کہہ سکتے ہیں۔۔۔ بہت سے اپنے مطلب کے واقعات بیان کرکے لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہیں اور آپ اس کو بھی تسلیم کریں گے کہ علماء سوء ۔۔۔جو بظاہر عالم ہی ہوتے ہیں۔۔۔ کو عام آدمی شناخت نہیں کرسکتا، اس کی پکڑ تو اسی وقت ہوسکتی ہے جب وہ واقعات کے ساتھ مستند حوالہ بھی دے۔
ہمیں یہ تسلیم ہے بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء اور بشر میں افضل تر ہیں، ان کے ساتھ خصوصیات بھی تسلیم کرنا ایمان کا تقاضا ہے، لیکن اس کا کیا جائے کہ آج کا دور مادّیت اور سائنس کا دور ہے، عوام کی اکثریت خاص طور پر مغربی افکار سے متأثر ہے، ان کو مطمئن کرنے کے لئے جہاں تک ممکن ہوسکے کچھ نہ کچھ تو کرنا چاہئے، لہٰذا اگر مندرجہ ذیل سوالات کے جواب دے سکیں تو لوگوں کی تسلی ہوسکتی ہے:
۱:۔ اس واقعے کا ذکر جس کتاب میں ہے اس کا اور اس کے مصنف کا نام۔
۲:۔ صحابی مذکور کے عمل پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات۔
۳:۔ دوسرے صحابہ کرامؓ پر واقعے کے اثرات ۔ ۔ ۔ جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بول و براز نہ صرف پاک ہیں بلکہ خوشبو کے حامل ہیں۔۔۔ اور یہ بھی معلوم ہے کہ صحابہ کرامؓ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر چیز سے اپنی جانوں سے زیادہ محبت کرتے تھے، یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن اور وضو کے پانی کو بھی اپنے چہروں پر مل لیا کرتے تھے۔‘‘
جواب:۔
لوگوں کے چار اعتراض جو آپ نے نقل کئے ہیں، ان میں پہلا اعتراض اصل ہے، یعنی یہ کہ یہ واقعہ مستند ہے یا نہیں؟ دوسرے سوالات سب اس کی فرع ہیں، کیونکہ اگر کوئی واقعہ ہی ایسا نہ ہو تو پھر یہ سوالات متوجہ نہیں ہوتے۔
اس واقعے کو تسلیم کرنے کے بعد مسلمانوں کے ذہن میں سوالات کا پیدا ہونا ضعفِ ایمان، ضعفِ محبت اور ضعفِ علم کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ محبت میں سوالات پیدا نہیں ہوا کرتے، اور اگر صحیح علم ہوتا تو یہ توجیہ کرسکتے تھے کہ ممکن ہے یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہو کہ آپ کے فضلات کا نجس نہ ہونا عام انسانوں سے آپ کی امتیازی خصوصیت کی دلیل ہے۔ یہ دوسرے سوال کی توجیہ ہوسکتی تھی۔
تیسرے سوال کی توجیہ یہ ہوسکتی تھی کہ کبھی کبھی جذبۂ محبت غالب آجاتا ہے، اور آدمی اس میں معذور سمجھا جاتا ہے، جیسے صلح نامہ حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا تھا کہ: ’’محمد رسول اللہ‘‘ کے لفظ کو مٹادو! انہوں نے عرض کردیا کہ: میں آپ کے نامِ پاک کو نہیں مٹاسکتا! یہ بات انہوں نے حکمِ صریح کے مقابلے میں غلبۂ محبت کی وجہ سے فرمائی تھی، اس لئے اس پر ان کو کوئی عتاب نہیں فرمایا گیا۔
چوتھے سوال کی یہ توجیہ ہوسکتی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ پیشاب نوشی کا حکم فرمایا، نہ اس کا قانون بنایا، البتہ ایک مغلوب الْمحبت کو معذور سمجھا، اب عام لوگوں کے پیشاب پینے کا جواز اس سے کیسے نکل آیا؟
الغرض ضرورت اس بات کی تھی کہ پہلے یہ معلوم کیا جاتا کہ یہ واقعہ ہے بھی یا نہیں؟ پھر یہ معلوم کیا جاتا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کا بھی وہی حکم ہے جو ہم ایسے ناپاک لوگوں کے بول و براز کا ہے؟ یا اس سلسلے میں آپ کی کچھ خصوصیات بھی ہیں؟ اس بارے میں علمائے ربانی کی تحقیق کیا ہے؟ اور امام ابوحنیفہؒ و شافعیؒ اور ان کے اکابر متبعین کیا فرماتے ہیں؟ پھر یہ معلوم کیا جاتا کہ ایک حکم سب کے لئے یکساں ہوتا ہے؟ یا بعض اوقات موقع و محل کی خصوصیت سے حکم مختلف بھی ہوسکتا ہے؟
جن مولانا صاحب نے ناواقف اور بے سمجھ عوام کے سامنے بغیر تشریح کے یہ واقعہ بیان کردیا، انہوں نے بھی غیرذمہ داری کا ثبوت دیا، اور جنہوں نے یہ واقعہ سنتے ہی اعتراضات کی بوچھاڑ کردی اور مسئلے کی نوعیت معلوم کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی، انہوں نے بھی کچھ فہم و دانش کا ثبوت نہیں دیا، واﷲ اعلم!
جواب:۔
میری گزشتہ تحریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اوّل تو معلوم کیا جائے کہ یہ واقعہ کسی مستند کتاب میں موجود ہے یا نہیں؟ دوم یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کے بارے میں اہلِ علم و اکابر ائمہ دین کی تحقیق کیا ہے؟ ان دو باتوں کی تحقیق کے بعد جو شبہات پیش آسکتے ہیں، ان کی توجیہ ہوسکتی ہے۔ اب ان دونوں نکتوں کی وضاحت کرتا ہوں۔
امرِ اوّل:۔ یہ ہے کہ یہ واقعہ کسی مستند کتاب میں ہے یا نہیں؟ حافظ جلال الدین سیوطیؒ کی کتاب ’’خصائص کبریٰ‘‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی خصوصیات جمع کی گئی ہیں۔ اس کی دوسری جلد کے صفحہ:۲۵۲ کا فوٹو آپ کو بھیج رہا ہوں، جس کا عنوان ہے: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ خصوصیات کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بول و براز پاک تھا‘‘، اس عنوان کے تحت انہوں نے احادیث نقل کی ہیں، ان میں سے دو احادیث ۔۔۔جن کو میں نے نشان زد کردیا ہے۔۔۔ کو مع ترجمہ نقل کرتا ہوں:
۱:۔ ’’وَأَخْرَجَ أَبُوْ یَعْلٰی وَالْحَاکِمُ وَالدَّارَقُطْنِیْ وَالطَّبْرَانِیْ وَأَبُوْ نُعَیْمٍ عَنْ اُمِّ أَیْمَنَ قَالَتْ: قَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّیْلِ إِلٰی فَخَارَۃٍ فَبَالَ فِیْھَا، فَقُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ وَأَنَا عَطْشَانَۃٌ فَشَرِبْتُ مَا فِیْھَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرْتُہٗ، فَضَحِکَ وَقَالَ: أَمَا إِنَّکَ لَا یَتَجَعَّنَّ بَطْنُکَ أَبَدًا! وَلَفْظُ أَبِیْ یَعْلٰی: إِنَّکَ لَنْ تَشْتَکِیَ بَطْنُکَ بَعْدَ یَوْمِکَ ھٰذَا أَبَدًا!‘‘
ترجمہ:۔ ’’ابویعلیٰ، حاکم، دارقطنی، طبرانی اور ابونعیم رحمہم اللہ نے سند کے ساتھ حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت مٹی کے پکے ہوئے ایک برتن میں پیشاب کیا، پس میں رات کو اُٹھی، مجھے پیاس تھی، میں نے وہ پیالہ پی لیا۔ صبح ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: تجھے پیٹ کی تکلیف کبھی نہ ہوگی! اور ابویعلیٰ کی روایت میں ہے کہ: آج کے بعد تم پیٹ کی تکلیف کی شکایت نہ کروگی!‘‘
۲:۔’’وَأَخْرَجَ الطَّبْرَانِیُ وَالْبَیْھَقِیْ بِسَنَدٍ صَحِیْحٍ عَنْ حُکَیْمَۃَ بِنْتِ اُمَیْمَۃَ عَنْ اُمِّھَا قَالَتْ: کَانَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْحٌ مِّنْ عِیْدَانَ، یَبُوْلُ فِیْہِ، وَیَضَعُہٗ تَحْتَ سَرِیْرِہٖ، فَقَامَ فَطَلَبَہٗ فَلَمْ یَجِدْہُ، فَسَأَلَ عَنْہُ، فَقَالَ: أَیْنَ الْقَدْحُ؟ قَالُوْا: شَرِبَتْہٗ بَرَّۃٌ خَادِمَۃُ اُمِّ سَلْمَۃَ الَّتِیْ قَدِمَتْ مَعَھَا مِنْ أَرْضِ الْحَبْشَۃِ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَقَدِ احْتَظَرَتْ مِنَ النَّارِ بِحِظَارًا!‘‘
ترجمہ:۔ ’’طبرانی اور بیہقی نے بہ سند صحیح حکیمہ بنت امیمہ سے اور انہوں نے اپنی والدہ حضرت امیمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں لکڑی کا ایک پیالہ رکھا رہتا تھا، جس میں شب کو گاہ و بے گاہ پیشاب کرلیا کرتے تھے، اور اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ دیتے تھے، آپ ایک مرتبہ (صبح) اُٹھے، اس کو تلاش کیا تو وہاں نہیں ملا، اس کے بارے میں دریافت فرمایا، تو بتایا گیا کہ اس کو برہ نامی حضرت ام سلمہؓ کی خادمہ نے نوش کرلیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اس نے آگ سے بچاؤ کے لئے حصار بنالیا۔‘‘
یہ دونوں روایتیں مستند ہیں، اور محدثین کی ایک بڑی جماعت نے ان کی تخریج کی ہے، اور اکابرِ امت نے ان واقعات کو بلانکیر نقل کیا ہے، اور انہیں خصائصِ نبوی میں شمار کیا ہے۔
امر دوم:۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کے بارے میں اکابرِ امت کی تحقیق:
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ بَابُ الْمَاءِ الَّذِي يُغْسَلُ بِهِ شَعْرُ الْإِنْسَانِ (ج:۱ ص:۲۷۲ مطبوعہ لاہور) میں لکھتے ہیں:
’’وَقَدْ تَكَاثَرَتِ الْأَدِلَّةُ عَلٰی طَهَارَةِ فَضَلَاتِهِ، وَعَدَّ الْأَئِمَّةُ ذٰلِكَ مِنْ خَصَائِصِهِ، فَلَا يُلْتَفَتْ إِلٰی مَا وَقَعَ فِي كُتُبِ كَثِيْرٍ مِنَ الشَّافِعِيَّةِ مِمَّا يُخَالِفُ ذٰلِكَ، فَقَدِ اسْتَقَرَّ الْأَمْرُ بَيْنَ أَئِمَّتِهِمْ عَلَی الْقَوْلِ بِالطَّهَارَةِ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کے پاک ہونے کے دلائل حدِ کثرت کو پہنچے ہوئے ہیں، اور ائمہ نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں شمار کیا ہے۔ پس بہت سے شافعیہ کی کتابوں میں جو اس کے خلاف پایا جاتا ہے، وہ لائقِ التفات نہیں، کیونکہ ان کے ائمہ کے درمیان طہارت کے قول ہی پر معاملہ آن ٹھہرا ہے۔‘‘
۱:۔ حافظ بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری (ج:۲ ص:۳۵ مطبوعہ دارالفکر بیروت) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کی طہارت کو دلائل سے ثابت کیا ہے، اور شافعیہ میں سے جو لوگ اس کے خلاف کے قائل ہیں ان پر بلیغ ردّ کیا ہے،(۱) اور ج:۲ صفحہ:۷۹ میں حضرت امام ابوحنیفہؒ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بول اور باقی فضلات کی طہارت کا قول نقل کیا ہے۔(۲)
۲:۔ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مہذب (ج:۱ ص: ۲۳۳) میں بول اور دیگر فضلات کے بارے میں شافعیہ کے دونوں قول نقل کرکے طہارت کے قول کو مرجحہ قرار دیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’حَدِيْثُ شُرْبِ الْمَرْأَةِ الْبَوْلَ صَحِيْحٌ، رَوَاهُ الدَّارَ قُطْنِيُّ، وَقَالَ: هُوَ حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ، وَهُوَ كَانَ فِي الِاحْتِجَاجِ لِكُلِّ الْفَضَلَاتِ قِيَاسًا۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’عورت کے پیشاب پینے کا واقعہ صحیح ہے، امام دارقطنی نے اس کو روایت کرکے صحیح کہا ہے، اور یہ حدیث تمام فضلات کی طہارت کے استدلال کے لئے کافی ہے۔‘‘
۳:۔ علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں:
’’صَحَّحَ بَعْضُ أَئِمَّةِ الشَّافِعِيَّةِ طَهَارَةَ بَوْلِهِ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَائِرِ فَضَلَاتِهِ، وَبِهِ قَالَ أَبُو حَنِيْفَةَ كَمَا نَقَلَهُ فِي الْمَوَاهِبِ اللَّدُنِّيَّةِ عَنْ شَرْحِ الْبُخَارِيِّ لِلْعَيْنِيِّ۔‘‘ (رد المحتار ج:۱ ص:۳۱۸ مطبوعہ کراچی)
ترجمہ:۔ ’’بعض اَئمۂ شافعیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بول اور باقی فضلات کی طہارت کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام ابوحنیفہؒ بھی اسی کے قائل ہیں، جیسا کہ مواہب لدنیہ میں علامہ عینیؒ کی شرح بخاری سے نقل کیا ہے۔‘‘
۴:۔ مُلَّا علی قاریؒ جمع الوسائل شرح الشمائل (ج:۲ ص:۲ مطبوعہ مصر ۱۳۱۷ھ) میں اس پر طویل کلام کے بعد لکھتے ہیں:
’’قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: وَبِهٰذَا اسْتَدَلَّ جَمْعٌ مِنْ أَئِمَّتِنَا الْمُتَقَدِّمِيْنَ وَغَيْرِهِمْ عَلٰی طَهَارَةِ فَضَلَاتِهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الْمُخْتَارُ، وِفَاقًا لِجَمْعٍ مِنَ الْمُتَأَخِّرِيْنَ، فَقَدْ تَكَاثَرَتِ الْأَدِلَّةُ عَلَيْهِ، وَعَدَّهُ الْأَئِمَّةُ مِنْ خَصَائِصِهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ہمارے ائمہ متقدمین کی ایک جماعت اور دیگر حضرات نے احادیث سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کی طہارت پر استدلال کیا ہے، متأخرین کی جماعت کی موافقت میں بھی یہی مختار ہے، کیونکہ اس پر دلائل بکثرت ہیں اور ائمہ نے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں شمار کیا ہے۔‘‘
امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں:
’’ثُمَّ مَسْأَلَةُ طَهَارَةِ فَضَلَاتِ الْأَنْبِيَاءِ تُوْجَدُ فِي كُتُبِ الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ۔‘‘ (فیض الباری ج:۱ ص:۲۵۰)
ترجمہ:۔ ’’فضلاتِ انبیاء کی طہارت کا مسئلہ مذاہبِ اربعہ کی کتابوں میں موجود ہے۔‘‘
محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری نور اللہ مرقدہٗ لکھتے ہیں:
’’وَقَدْ صَرَّحَ أَهْلُ الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ بِطَهَارَةِ فَضَلَاتِ الْأَنْبِيَاءِ ۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (معارف السنن ج:۱ ص:۹۸)
ترجمہ:۔ ’’مذاہبِ اربعہ کے حضرات نے فضلاتِ انبیاء کے پاک ہونے کی تصریح کی ہے۔‘‘
الحمدللہ! ان دونوں نکتوں کی وضاحت تو بقدرِ ضرورت ہوچکی۔ یہ واقعہ مستند ہے اور مذاہبِ اربعہ کے ائمہ فقہاء نے ان احادیث کو تسلیم کرتے ہوئے فضلاتِ انبیاء علیہم السلام کی طہارت کا قول نقل کیا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر اعتراض کیا جائے تو اس کو ضعفِ ایمان ہی کہا جاسکتا ہے!
اب ایک نکتہ محض تبرعاً لکھتا ہوں، جس سے یہ مسئلہ قریب الفہم ہوجائے گا۔ حق تعالیٰ شانہ کے اپنی مخلوق میں عجائبات ہیں، جن کا ادراک بھی ہم لوگوں کے لئے مشکل ہے، اس نے اپنی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ سے بعض اجسام میں ایسی محیرالعقول خصوصیات رکھی ہیں جو دوسرے اجسام میں نہیں پائی جاتیں۔ وہ ایک کیڑے کے لعاب سے ریشم پیدا کرتا ہے، شہد کی مکھی کے فضلات سے شہد جیسی نعمت ایجاد کرتا ہے، اور پہاڑی بکرے کے خون کو نافہ میں جمع کرکے مشک بنادیتا ہے۔ اگر اس نے اپنی قدرت سے حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام کے اجسامِ مقدسہ میں بھی ایسی خصوصیات رکھی ہوں کہ غذا ان کے ابدانِ طیبہ میں تحلیل ہونے کے بعد بھی نجس نہ ہو، بلکہ اس سے جو فضلات ان کے ابدان میں پیدا ہوں وہ پاک ہوں تو کچھ جائے تعجب نہیں۔ اہل جنت کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ کھانے پینے کے بعد ان کو بول و براز کی ضرورت نہ ہوگی، خوشبودار ڈکار سے سب کا کھایا پیا ہضم ہوجائے گا،(۳) اور بدن کے فضلات خوشبودار پسینے میں تحلیل ہوجائیں گے۔ جو خصوصیت کہ اہل جنت کے اجسام کو وہاں حاصل ہوگی، اگر حق تعالیٰ شانہ حضراتِ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کے پاک اجسام کو وہ خاصیت دنیا ہی میں عطا کردیں تو بجا ہے، پھر جبکہ احادیث میں اس کے دلائل بکثرت موجود ہیں، جیسا کہ اوپر حافظ ابن حجرؒ کے کلام میں گزر چکا ہے، تو انبیاء علیہم السلام کے اجسام کو اپنے اوپر قیاس کرکے ان کا انکار کردینا، یا ان کے تسلیم کرنے میں تأمل کرنا صحیح نہیں، مولانا رومیؒ فرماتے ہیں:
ایں خورد گردد پلیدی زو جدا
واں خورد گردد ہمہ نور خدا
آخر میں حضراتِ علمائے کرام اور خطبائے عظام سے بھی گزارش کرتا ہوں کہ عوام کے سامنے ایسے امور نہ بیان کریں جو اُن کے فہم سے بالاتر ہوں، وَللّٰهُ الْحَمْدُ أَوَّلًا وَآخِرًا!
- (۱) وقال بعض شراح البخاری فی بولہ ودمہ وجھان، والألیق الطھارۃ وذکر القاضی حسین فی العذرۃ وجھین وأنکر بعضھم علی الغزالی حکایتھما فیھا وزعم نجاستھا بالْإتفاق قلت یا للغزالی من ھفوات حتّٰی فی تعلقات النبی علیہ الصلاۃ والسلام وقد وردت أحادیث کثیرۃ ان جماعۃ شربوا دم النبی علیہ الصلاۃ والسلام منھم ابوطیبۃ الحجام وغلام من قریش حجم النبی علیہ الصلاۃ والسلام وعبداللہ بن الزبیر شرب دم النبی علیہ الصلاۃ والسلام، رواہ البزار والطبرانی والحاکم والبھیقی وأبونعیم فی الحلیۃ ویروی عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ انہ شرب دم النبی علیہ الصلاۃ والسلام وروی أیضًا ان اُمّ أیمن شربت بول النبی صلی اللہ علیہ وسلم رواہ الحاکم والدارقطنی والطبرانی وأبونعیم۔ (عمدۃ القاری ج:۲ ص:۳۵)۔
- (۲) ولئن سلمنا ان المراد ھو الماء الذی یتقاطر من أعضائہ الشریفۃ فأبوحنیفۃ ینکر ھٰذا ویقول بنجاسۃ ذاک حاشاہ منہ وکیف یقول ذٰلک وھو یقول بطھارۃ بولہ وسائر فضلاتہ۔ (عمدۃ القاری ج:۲ ص:۷۹)۔
- (۳) ’’عن جابر (رضی اللہ عنہ) قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان أھل الجنّۃ یأکلون فیھا ویشربون ولَا یتفلون ولَا یبولون ولَا یتغوطون ولَا یمتخطون، قالوا: فما بال الطعام؟ قال: جشاء ورشح کرشح المسک ۔۔۔‘‘ رواہ مسلم، (مشکٰوۃ ص:۴۹۶، باب صفۃ الجنۃ وأھلھا، الفصل الأوّل)۔

