بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ رَدِّ شمس

سوال:۔

گزشتہ دنوں ایک مولانا صاحب نے مقامی مسجد میں اتباعِ رسول کے موضوع پر وعظ کرتے ہوئے فرمایا کہ: ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زانو پر سر رکھ کر لیٹے کہ اتنے میں انہیں نیند آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئے، اِدھر عصر کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا، انہوں نے سوچا کہ نماز تو پھر مل جائے گی مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس طرح کی قربت نہ جانے پھر نصیب ہوگی یا نہیں؟ اتنے میں سورج غروب ہوگیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھلی تو سورج غروب ہوچکا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جاگ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ: نماز پڑھنا چاہتے ہو یا قضا پڑھو گے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ: قضا نہیں پڑھنا چاہتا! تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کو حکم دیا، سورج دوبارہ نکل آیا اور حضرت علیؓ نے نماز پڑھی۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز تو قضا کرلی مگر زانو سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ جگایا۔

اس میں تفصیل طلب بات یہ ہے کہ آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نماز پڑھ لی یا نماز پڑھنے سے پہلے سوگئے یا دونوں نے نماز نہیں پڑھی؟ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں بیٹھے رہے اور انہوں نے نماز نہیں پڑھی؟ اور پھر نبی جب سوتا ہے تو غافل نہیں ہوتا، نبی کا دل جاگ رہا ہوتا ہے، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی سوجائے، اس کی اپنی نماز قضا ہوجائے یا اس کے رفیق کی؟

مولانا کی گفتگو سے مندرجہ بالا اِشکالات میرے ذہن میں آئے، اُمید ہے کہ ان کا جواب دے کر ممنون فرمائیں گے اور بتلائیں گے کہ آیا یہ واقعہ صحیح احادیث سے ثابت ہے یا واقعہ کی حد تک ہے؟

جواب:۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے ردّ شمس کی حدیث امام طحاوی رحمہ اللہ نے مشکل الآثار (ج:۲ ص:۹) میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، بہت سے حفاظِ حدیث نے اس کی تصحیح فرمائی ہے۔ امام طحاویؒ نے اس کے رجال کی توثیق کرنے کے بعد حافظ احمد بن صالح مصریؒ کا یہ قول نقل کیا ہے:

’’لَا يَنْبَغِي لِمَنْ كَانَ سَبِيلُهُ الْعِلْمُ التَّخَلُّفُ عَنْ حِفْظِ حَدِيْثِ أَسْمَاءَ الَّذِي رُوِيَ لَنَا عَنْهُ، لِأَنَّهُ مِنْ أَجَلِّ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ۔‘‘ (مشکل الآثار ج:۲ ص:۱۱)

ترجمہ:۔ ’’جو شخص علمِ حدیث کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہو، اسے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث کے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، یاد کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے، کیونکہ یہ جلیل القدر معجزاتِ نبوت میں سے ہے۔‘‘

حافظ سیوطی رحمہ اللہ ’’اللآلی المصنوعۃ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وَمِمَّا يَشْهَدُ بِصِحَّةِ ذٰلِكَ قَوْلُ الْإِمَامِ الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِ: مَا أُوْتِيَ نَبِيٌّ مُعْجِزَةً إِلَّا أُوْتِيَ نَبِيُّنَا صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظِيرَهَا أَوْ أَبْلَغَ مِنْهَا، وَقَدْ صَحَّ أَنَّ الشَّمْسَ حُبِسَتْ عَلٰی يُوشَعَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيَالِيَ قَاتَلَ الْجَبَّارِينَ، فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُوْنَ لِنَبِيِّنَا صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظِيرُ ذٰلِكَ، فَكَانَتْ هٰذِهِ الْقِصَّةُ نَظِيرَ تِلْكَ۔‘‘ (مشکل الآثار ج:۱ ص:۳۴۱)

ترجمہ:۔ ’’اور من جملہ ان اُمور کے جو اس واقعہ کے صحیح ہونے کی شہادت دیتے ہیں، حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات کا یہ ارشاد ہے کہ کسی نبی کو جو معجزہ بھی دیا گیا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی نظیر عطا کی گئی، یا اس سے بھی بڑھ کر، اور صحیح احادیث میں آچکا ہے کہ سورج، حضرت یوشع علیہ السلام کے لئے روکا گیا تھا، جبکہ انہوں نے جبارین سے جہاد کیا، پس ضروری تھا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی اس کی نظیر واقع ہوتی، چنانچہ یہ واقعہ حضرت یوشع علیہ السلام کے واقعہ کی نظیر ہے۔‘‘

امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس قصہ کو موضوعات میں شمار کیا ہے، اور حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بھی ’’منہاج السنۃ‘‘ میں بڑی شد و مد سے اس کا انکار کیا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’فتح الباری‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وَهٰذَا أَبْلَغُ الْمُعْجِزَاتِ، وَقَدْ أَخْطَأَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي إِيرَادِهِ فِي الْمَوْضُوْعَاتِ، وَكَذَا ابْنُ تَيْمِيَّةَ فِي كِتَابِ الرَّدِّ عَلَی الرَّوَافِضِ فِي زَعْمِ وَضْعِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ‘‘ (ج:۶ ص:۲۲۲)

ترجمہ:۔ ’’ردّ شمس کا یہ واقعہ حضرت یوشع علیہ السلام کے واقعہ سے بلیغ تر ہے، ابن جوزیؒ نے اس واقعہ کو موضوعات میں درج کرکے غلطی کی ہے، اسی طرح ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب میں جو ردّ روافض پر لکھی گئی ہے، اس کو موضوع قرار دے کر غلطی کی ہے۔‘‘

حافظ سیّد مرتضیٰ زبیدی رحمہ اللہ ’’شرح احیاء‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وَهٰذَا تَحَامُلٌ مِنِ ابْنِ الْجَوْزِيِّ، وَقَدْ رَدَّ عَلَيْهِ الْحَافِظَانِ السَّخَاوِيُّ وَالسُّيُوطِيُّ، وَحَالُهُ فِي إِدْرَاجِ الْأَحَادِيْثِ الصَّحِيْحَةِ فِي حَيِّزِ الْمَوْضُوْعَاتِ مَعْلُوْمٌ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ، وَقَدْ رَدَّ عَلَيْهِ وَعَابَهُ كَثِيْرُوْنَ مِنْ أَهْلِ عَصْرِهِ وَمِنْ بَعْدِهِمْ، كَمَا نَقَلَهُ الْحَافِظُ الْعِرَاقِيُّ فِي أَوَائِلِ نُكَتِهِ عَلٰی ابْنِ الصَّلَاحِ، فَلَا نُطِيْلُ بِذِكْرِهِ، وَهٰذَا الْحَدِيْثُ صَحَّحَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، حَتّٰی قَالَ السُّيُوطِيُّ: إِنَّ تَعَدُّدَ طُرُقِهِ شَاهِدٌ عَلٰی صِحَّتِهِ، فَلَا عِبْرَةَ بِقَوْلِ ابْنِ الْجَوْزِيِّ۔‘‘ (اتحاف شرح احیاء ج:۷ ص:۱۹۲)

ترجمہ:۔ ’’اس واقعہ کو موضوعات میں شمار کرنا ابن جوزیؒ کی زیادتی ہے، حافظ سخاویؒ اور حافظ سیوطیؒ نے ان پر ردّ کیا ہے، اور ابن جوزیؒ جس طرح صحیح احادیث کو موضوعات میں ذکر کرجاتے ہیں وہ ائمہ کو معلوم ہے، ان کی اس رَوِش پر ان کے معاصرین نے بھی اور بعد کے حضرات نے بھی ان کی عیب چینی کی ہے، جیسا کہ حافظ عراقی ؒ نے اپنی کتاب ’’نکت ابن صلاح‘‘ کے اوائل میں ذکر کیا ہے اور اس حدیث کو بہت سے حفاظِ حدیث نے صحیح کہا ہے۔ سیوطیؒ کہتے ہیں کہ: اس کے طرق کا متعدد ہونا اس کی صحت پر شاہد ہے، اس لئے ابن جوزیؒ کے قول کا کوئی اعتبار نہیں۔‘‘

بہرکیف! یہ واقعہ صحیح ہے اور اس کا شمار معجزاتِ نبوی میں ہوتا ہے، رہا آپ کا یہ کہنا کہ: ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی ہو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہ پڑھی ہو؟‘‘ اس کا جواب خود اسی حدیث میں موجود ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام سے بھیجا تھا، جب وہ اس کام سے واپس آئے تو نماز ہوچکی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سمجھا کہ یہ نماز پڑھ چکے ہوں گے۔

اور آپ کا یہ کہنا کہ: ’’نبی سوتا ہے تو اس کا دِل جاگتا ہے، پھر نماز کیسے قضا ہوسکتی ہے؟‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ نماز کے اوقات کا مشاہدہ کرنا دِل کا کام نہیں، بلکہ آنکھوں کا کام ہے، اور نیند کی حالت میں نبی کی آنکھ سوتی ہے، دِل جاگتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ’’لیلۃ التعریس‘‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رُفقا کی نمازِ فجر قضا ہوئی،(۱) واﷲ اعلم!

  1. (۱) ’’عن ابی ھریرۃ قال: أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین قفل من غزوۃ خیبر سار لیلۃ حتّٰی اذا ادرکہ الکریٰ عرس، وقال لبلال: اکلأ لنا اللیل، فصلی بلال ما قدر لہ ونام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأصحابہ، فلما تقارب الفجر استند بلال الٰی راحلتہ موجہ الفجر فغلبت بلالًا عیناہ وھو مستند الٰی راحلتہ فلم یستیقظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولَا بلال ولَا أحد من أصحابہ حتّٰی ضربتھم الشمس، فکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوّلھم استیقاظًا ففزع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ای بلال! فقال بلال: أخذ بنفسی الذی أخذ بنفسک، قال: اقتادوا، فاقتادوا رواحلھم شیئًا ثم توضأ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وأمر بلالًا فأقام الصلٰوۃ فصلی بھم الصبح، فلما قضی الصلٰوۃ قال: من نسی الصلٰوۃ فلیصلھا اذا ذکرھا فان اللہ تعالٰی قال: ﵟ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ لِذِكۡرِيٓ ﵞرواہ مسلم (مشکوٰۃ ص:۶۶)۔