انبیائے کرام علیہم السلام
کیا حضرت خضر علیہ السلام نبی تھے؟
سوال:۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ جو دُوسرے آدمی شریکِ سفر تھے وہ غالباً حضرت خضرؑ تھے، عام خیال یہی ہے۔ حضرت خضرؑ کا پیغمبر ہونا قرآن سے ثابت نہیں، پیغمبر کے بغیر کسی پر وحی بھی نازل نہیں ہوتی، غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، تو پھر حضرت خضرؑ کو ظالم بادشاہ، نافرمان بچے اور دیوار والے خزانے کے متعلق کس طرح علم ہوا، جبکہ حضرت موسیٰ ؑکو ان کی خبر تک نہ تھی؟
جواب:۔
قرآنِ کریم کی ان آیات سے جن میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السلام کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے، یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ نبی تھے، اور یہی جمہور علماء کا مذہب ہے۔(۱) اور جو حضرات اس کے قائل ہیں کہ وہ نبی نہیں تھے، شاید ان کی مراد یہ ہو کہ دعوت و تبلیغ کی خدمت ان کے سپرد نہیں تھی، بلکہ بعض تکوینی خدمات ان سے لی گئیں۔ بہرحال حق تعالیٰ شانہ‘ سے براہِ راست ان کو علم عطا کیا جانا قرآنِ کریم سے ثابت ہے، لہٰذا ان کو ظالم بادشاہ، نافرمان بچے اور دیوار والے خزانے کا علم ہوجانا بذریعۂ وحی تھا، اور جو علم بذریعۂ وحی حاصل ہو، اسے ’’علمِ غیب‘‘ نہیں کہا جاتا۔
- (۱) قال الأکثرون إن ذٰلک العبد کان نبیًّا واحتجوا علیہ بوجوہ (الأوّل) أنہ تعالٰی قال:ﵟ ءَاتَيۡنَٰهُ رَحۡمَةٗ مِّنۡ عِندِنَا ﵞ، والرحمۃ ھی النبوۃ بدلیل قولہ تعالٰی:ﵟ أَهُمۡ يَقۡسِمُونَ رَحۡمَتَ رَبِّكَۚ ﵞ، وقولہ: ﵟ وَمَا كُنتَ تَرۡجُوٓاْ أَن يُلۡقَىٰٓ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبُ إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّن رَّبِّكَۖ ﵞ، والمراد من ھٰذہ الرحمۃ النبوۃ۔ (التفسیر الکبیر ج:۲۱ ص:۱۴۸)۔ ﵟ فَوَجَدَا عَبۡدٗا مِّنۡ عِبَادِنَآ ﵞ، العبد ھو الخضر علیہ السلام فی قول الجمھور ۔۔۔ والخضر نبی عند الجمھور وقیل ھو عبد صالح غیر نبی والآیۃ تشھد بنبوتہ لأن بواطن أفعالہ لَا تکون إلّا بوحی۔ (تفسیر القرطبی ج:۱۱ ص:۱۶)۔ أن الخضر نبی وإن لم یکن کما زعم البعض۔ (تفسیر نسفی ج:۲ ص:۳۱۵)، وما فعلتہ عن أمری، لٰـکنی أُمرت بہ ووقفت علیہ وفیہ دلَالۃ لمن قال بنبوۃ الخضر علیہ السلام۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۲۳۸)، قال البغوی لم یکن الخضر نبیًّا عند أکثر أھل العلم قلت وھٰذا عندی محل نظر لأن العلم الحاصل للأولیاء بالْإلھام وغیرہ ذٰلک علم ظنی یحتمل الخطاء ولذٰلک تری تعارض علومھم الملھمۃ فلو لم یکن الخضر نبیًّا لما جاز لہ قتل نفس ذکیۃ بإلھام انہ لو عاش لأرھق أبویہ طغیانًا وکفرًا۔ (تفسیر مظہری ج:۶ ص:۱۳۹)، والجمھور علٰی أن الخضر نبی وکان علمہ معرفتہ بواطن قد اوحیت إلیہ ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر البحر المحیط ج:۶ ص:۱۴۷)۔

