بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

حضرت ابراہیمؑ نے ملائکہ کی مدد کی پیشکش کیوں ٹھکرادی؟

سوال:۔

ایک حدیث ہے کہ:

۱:۔’’حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلٰى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ وَهُوَ يُوْثَقُ أَوْ يُقْمَطُ لِيُلْقٰى فِي النَّارِ، فَقَالَ: يَا إِبْرَاهِيمُ! أَلَكَ حَاجَةٌ؟ قَالَ: أَمَّا إِلَيْكَ فَلَا‘‘ (جامع البیان فی تفسیر القرآن ج:۱۷ ص:۴۵)

۲:۔’’وَرَوَى أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ۔۔۔۔ فَاسْتَقْبَلَهُ جِبْرَائِيْلُ، فَقَالَ: يَا إِبْرَاهِيْمُ! أَلَكَ حَاجَةٌ؟ قَالَ: أَمَّا إِلَيْكَ فَلَا! فَقَالَ جِبْرَائِيْلُ: فَاسْأَلْ رَبَّكَ! فَقَالَ: حَسْبِيْ مِنْ سُؤَالِيْ عِلْمُهُ بِحَالِيْ‘‘ (تفسیر قرطبی ج:۱۱ ص:۲۰۳)

۳:۔’’فَأَتَاهُ خَازِنُ الرِّيَاحِ وَخَازِنُ الْمِيَاهِ يَسْتَأْذِنَانِهِ فِيْ إِعْدَامِ النَّارِ، فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَا حَاجَةَ لِيْ إِلَيْكُمَا! حَسْبِيَ اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ۔‘‘

۴:۔’’وَرَوَى ابْنُ كَعْبٍ الخ فِيْهِ فَقَالَ: يَا إِبْرَاهِيْمُ! أَلَكَ حَاجَةٌ؟ قَالَ: أَمَّا إِلَيْكَ فَلَا‘‘ ۔(روح المعانی ج:۹ ص:۶۸)

۵:۔اسی طرح تفسیر مظہری اُردو ج:۸ ص:۵۴ میں حضرت اُبی بن کعبؓ کی روایت بھی ہے۔

۶:۔’’وَذَكَرَ بَعْضُ السَّلَفِ أَنَّ جِبْرَائِيْلَ عَرَضَ لَهُ فِي الْهَوَاءِ فَقَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِلَيْك فَلَا‘‘(البدایۃ والنھایۃ ج:۱ ص:۱۴۹)

۷:۔’’وَذَكَرَ بَعْضُ السَّلَفِ أَنَّهُ عَرَضَ لَهُ جِبْرَائِيْلُ وَهُوَ فِي الْهَوَاءِ فَقَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ؟ فَقَالَ: أَمَّا إِلَيْكَ فَلَا! وَأَمَّا مِنَ اللّٰهِ فَبَلٰى۔‘‘(تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۳۷۳)

ان مندرجہ بالا روایات کے پیشِ نظر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کو اس انداز سے بیان کرنا کہ: فرشتے اللہ تعالیٰ سے اجازت لے کر حاضر ہوئے اور ابراہیمؑ کو مدد کی پیشکش کی، لیکن ابراہیمؑ نے ان کی پیشکش کو قبول نہ کیا، درست ہے یا نہیں؟

جواب:۔

یہ تو ظاہر ہے کہ ملائکہ علیہم السلام بغیر اَمر و اِذنِ الٰہی دَم نہیں مارتے، اس لئے سیّدنا ابراہیم عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيْمَاتُکو ان حضرات کی طرف سے مدد کی پیشکش بدوں اِذنِ الٰہی نہیں ہوسکتی، لیکن حضرت خلیل عَلٰى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ الصَّلَوَاتُ وَالتَّسْلِيْمَاتُاس وقت مقامِ توحید میں تھے، اور غیراللہ سے نظر یکسر اُٹھ گئی تھی، اس لئے تمام اسباب سے (کہ من جملہ ان کے ایک دُعا بھی ہے) دست کش ہوگئے، کاملین میں یہ حالت ہمیشہ نہیں ہوا کرتی: ’’گاہے باشد وگاہے نہ، وَلٰكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً ‘‘ هٰذَا مَا عِنْدِيْ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ

  1. (۱) سورۂ طٰہٰ آیات: ۸۹ تا ۹۴۔