انبیائے کرام علیہم السلام
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے سبق
سوال:۔
روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی کے جمعہ ایڈیشن اشاعت ۱۰؍جون ۱۹۹۵ء میں آپ نے ’’کراچی کا المیہ اور اس کا حل‘‘ کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے، اس سے آپ کی دردمندی اور دِل سوزی کا بدرجہ اتم اظہار ہوتا ہے، آپ نے سقوطِ ڈھاکہ کے جانکاہ سانحے کا بھی ذکر کیا ہے اور کراچی کی حالتِ زار میں بھی بیرونی قوّتوں کی سازشوں سے عوام کو آگاہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے کراچی کے قتل و خوں اور غارت گری کو ختم کرنے کے لئے سات نکات پر مشتمل اپنی تجاویز بھی پیش کی ہیں اور امن و عافیت اور اُلفت و محبت کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خشوع و خضوع کے ساتھ دُعا بھی کی ہے۔ آپ کی اس دُعا کو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور آپ کو جزائے خیر دے، آمین! آپ نے اس مضمون میں حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم کا بھی حوالہ دیا ہے، قومِ یونس نے جس طرح اللہ سے گڑگڑاکر دُعا مانگی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرماکر اس سے اپنا عذاب اُٹھالیا تھا، اسی طرح ہم اہلِ کراچی بھی اللہ تعالیٰ سے دُعا کریں تاکہ وہ عفو و درگزر سے کام لے کر اپنا عذاب ہم پر سے اُٹھالے اور امن و سکون کی فضا پیدا کردے، آمین! آپ نے حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم کے متعلق معارف القرآن ج:۴ ص:۵۷۵ کا اقتباس بھی پیش کیا ہے، اس میں ایک جگہ لکھا ہے: ’’حضرت یونس علیہ السلام بہ ارشادِ خداوندی اس بستی سے نکل گئے۔‘‘ قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر چھ مقامات پر ہے۔ ۱-سورۃ النساء، ۲-سورۂ اَنعام، ۳-سورۂ یونس، ۴-سورۂ انبیاء، ۵-سورۃ الصافات اور ۶- سورۃ القلم میں، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تراجم پیش کر رہا ہوں۔
سورۂ انبیاء کی آیات:۸۷، ۸۸ میں ہے:
’’مچھلی والے (پیغمبر یعنی یونس علیہ السلام) کا تذکرہ کیجئے جب وہ (اپنی قوم سے) خفا ہوکر چل دئیے اور انہوں نے سمجھا کہ ہم ان پر (اس چلے جانے میں) کوئی دار و گیر نہ کریں گے۔ پس انہوں نے اندھیروں میں پکارا کہ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ (سب نقائص سے) پاک ہیں، میں بے شک قصور وار ہوں۔ سو ہم نے ان کی دُعا قبول کی اور ان کو اس کٹھن سے نجات دی اور ہم اسی طرح (اور) ایمان داروں کو بھی (کرب و بلا سے) نجات دیا کرتے ہیں۔‘‘
سورۃ الصافات کی آیت:۱۳۹ - ۱۴۳ میں ہے:
’’بے شک یونس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے، جبکہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچے، سو یونس (علیہ السلام) بھی شریکِ قرعہ ہوئے تو یہی ملزم ٹھہرے اور ان کو مچھلی نے (ثابت) نگل لیا اور یہ اپنے کو ملامت کر رہے تھے، سو اگر وہ (اس وقت) تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو قیامت تک اس کے پیٹ میں رہتے۔‘‘
سورۃ القلم آیت:۴۸ - ۵۰:
’’اپنے رَبّ کی (اس) تجویز پر صبر سے بیٹھے رہئے اور (تنگ دِلی میں) مچھلی (کے پیٹ میں جانے) والے پیغمبر یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ ہوجائیے۔‘‘
میرا مقصد حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم کے متعلق تمام واقعات بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ صرف یہ کہنا ہے کہ مندرجہ بالا آیاتِ قرآنی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت یونس علیہ السلام ’’بہ ارشادِ خداوندی رات کو اس بستی سے نکل گئے تھے‘‘ بلکہ اس کے برعکس یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بغیر اِذنِ خداوندی چلے گئے تھے اور ان کی اس لغزش پر اللہ نے ان کی گرفت کی تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام کا یہ واقعہ بہت مشہور ہے اور انہوں نے جو دُعا کی تھی اس کی تأثیر مسلّم ہے، مصیبت کے وقت ہم اس دُعا کا وِرد کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں۔ حیرت ہے کہ مفتیٔ اعظم حضرت مولانا محمد شفیع ؒ نے کیسے لکھ دیا کہ: ’’حضرت یونس علیہ السلام بہ ارشادِ خداوندی رات کو اس بستی سے نکل گئے تھے‘‘؟
جواب:۔
حضرت مفتی صاحبؒ نے صفحہ:۵۷۳ پر اس بحث کو مدلل لکھا ہے، اس کو ملاحظہ فرمالیا جائے۔
خلاصہ یہ کہ یہاں دو مقام ہیں، ایک حضرت یونس علیہ السلام کا اپنے شہر نینویٰ سے نکل جانا، یہ تو باَمرِ خداوندی ہوا تھا، کیونکہ ایک طے شدہ اُصول ہے کہ جب کسی قوم کی ہلاکت یا اس پر نزولِ عذاب کی پیش گوئی کی جاتی ہے تو نبی کو اور اس کے رُفقاء کو وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ پس جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو تین دن میں عذاب نازل ہونے کی باطلاعِ الٰہی خبر دی تو لامحالہ ان کو اس جگہ کے چھوڑ دینے کا بھی حکم ہوا ہوگا۔
دُوسرا مقام یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے بستی سے باہر تشریف لے جانے کے بعد جب بستی والوں پر عذاب کے آثار شروع ہوئے تو وہ سب کے سب ایمان لائے اور ان کی توبہ و اِنابت اور ایمان لانے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب ہٹالیا۔ ادھر حضرت یونس علیہ السلام کو یہ تو علم ہوا کہ تین دن گزر جانے کے باوجود ان کی قوم پر عذاب نازل نہیں ہوا، مگر ان کو اس کا سبب معلوم نہ ہوسکا۔ جس سے ظاہر ہے کہ ان کو پریشانی لاحق ہوگئی ہوگی، اور یہ سمجھے ہوں گے کہ اگر وہ دوبارہ بستی میں واپس جائیں گے تو قوم ان کی تکذیب کرے گی، اس تنگ دِلی میں ان کو یہ خیال نہیں رہا کہ اب ان کو وحیٔ الٰہی اور حکمِ خداوندی کا انتظار کرنا چاہئے، اس کے بجائے انہوں نے اپنے اجتہاد سے کہیں آگے جانے کا ارادہ فرمالیا۔
شاید یہ بھی خیال ہوا ہوگا کہ جس جگہ وہ اس وقت موجود تھے قوم کو ان کا سراغ مل گیا تو کہیں یہاں آکر درپے تکذیب و ایذا نہ ہو۔ ذرا تصوّر کیجئے کہ ایک نبی جس نے تین دن میں نزولِ عذاب کی پیش گوئی کی ہو اور یہ پیش گوئی بھی باَمرِ الٰہی ہو، اور پھر اس کے علم کے مطابق یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی اور اصل حقیقت حال کا اس کو علم نہ ہو، اس پر کیا گزری ہوگی۔۔۔؟ ایسی سراسیمگی و پریشانی کے عالم میں کسی اور جگہ کا عزمِ سفر کرلینا کچھ بھی مستبعد نہیں تھا۔ پس یہ تھی وہ اجتہادی لغزش، جس پر عتاب ہوا کہ انہوں نے بغیر حکمِ الٰہی کے آئندہ سفر کا قصد کیوں کیا؟ بعد میں جب کشتی کا واقعہ پیش آیا، تب ان کو اِحساس ہوا اور اس پر بارگاہِ اِلٰہی میں معذرت خواہ ہوئے۔ جن آیاتِ شریفہ کا آپ نے حوالہ دیا ہے، وہ اسی دُوسرے مقام سے متعلق ہیں، اس لئے حضرت مفتی صاحبؒ نے مقامِ اوّل کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے، اس کے خلاف نہیں۔

