بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

حضرت آدمؑ اور ان کی اولاد کے متعلق سوالات

سوال:۔

کہا جاتا ہے کہ ہم سب آدمؑ و حواؓ کی اولاد ہیں، اس حوالے سے حسبِ ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

سوال:۔

حضرت آدمؑ و حواؓ کی کیا کوئی بیٹی تھی؟

سوال:۔

اگر ان کی کوئی بیٹی تھی؟ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم کے بیٹوں سے ہی اس کی شادی ہوئی ہوگی اور اگر ایسا ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب یعنی پوری نوع انسانی حرامی ہے؟

سوال:۔

قصۂ بنی آدم کی روایتی تشریح کے حوالے سے حسب ذیل قرآنی آیات کی کیا تشریح ہوگی؟

الف:۔ ’’ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا‘‘ (المؤمنون:۱۲) یاد رہے کہ مٹی کا پتلا نہیں کہا گیا ہے۔

سوال:۔

سورئہ اعراف کی آیات ۱۱ تا ۲۵ کا مطالعہ کیجئے، ابتداء میں نوع انسانی کی تخلیق کا تذکرہ ہے، پھر آدمؑ کیلئے سجدہ، پھر اس کے بعد ابلیس کا انکار اور چیلنج۔ لیکن چیلنج کے مخاطب صرف آدمؑ اور اس کی بیوی نہیں، تثنیہ کا صیغہ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا، اس کا مطلب ہے تعداد زیادہ تھی، ایسا کیسے ہوگیا؟ جبکہ وہاں صرف آدمؑ و حواؓ ہی تھے، اس کے بعد آدمؑ و حواؓ کا تذکرہ ہے جن کے لئے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، لیکن آخر میں جہاں ہبوط کا ذکر ہے، وہاں پھر جمع کا صیغہ ہے، ایسا کیوں ہے؟

سوال:۔

ابتدا میں بشرکا ذکر ہے اور ضمیر واحد غائب کی ہے لیکن جب ابلیس چیلنج دیتا ہے تو ضمائر جمع غائب شروع ہوجاتی ہیں، کیوں؟

سوال:۔

اگر حضرت آدم نبی تھے تو نبی سے خطا کیسے ہوگئی اور خطا بھی کیسی؟

جواب:۔

بیٹیاں بھی تھیں۔(۱)

جواب:۔

حضرت آدم علیہ السلام کے یہاں ایک پیٹ سے دو اولادیں ہوتی تھیں: ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ ایک پیٹ کے دو بچے آپس میں سگے بھائی بہن کا حکم رکھتے تھے، اور دُوسرے پیٹ کے بچے ان کے لئے چچا زاد کا حکم رکھتے تھے۔ یہ حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت تھی، ایک پیٹ کے لڑکے، لڑکی کا عقد دُوسرے پیٹ کے لڑکے، لڑکی سے کردیا جاتا تھا۔(۲)

جواب:۔

’’مٹی کے خلاصہ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ روئے زمین کی مٹی کے مختلف انواع کا خلاصہ اور جوہر، اس سے حضرت آدم علیہ السلام کا قالب بنایا گیا، پھر اس میں رُوح ڈالی گئی۔(۳)

ب:۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ سے وقار کے آرزومند نہیں ہوتے اور یقینا اس نے تمہیں مختلف مراحل سے گزار کر پیدا کیا ہے۔۔۔ اور تمہیں زمین سے اگایا ہے ایک طرح کا اگانا(نوح:۱۳، ۱۷)۔

یہاں مختلف ’’مراحل سے گزار کر پیدا کرنے‘‘ اور ’’زمین سے اگانے‘‘ کا کیا مطلب ہے؟

جواب:۔

یہاں عام انسانوں کی تخلیق کا ذکر ہے کہ غذا مختلف مراحل سے گزر کر مادئہ منویہ بنی، پھر ماں کے رحم میں کئی مراحل گزرنے کے بعد آدمی پیدا ہوتا ہے۔(۴)

جواب:۔

حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے قصے سے مقصود اولادِ آدم کو عبرت و نصیحت دلانا ہے، اس لئے اس قصے کو اس عنوان سے شروع کیا کہ ہم نے ’’تم کو پیدا کیا اور تمہاری صورتیں بنائیں(۵)۔‘‘ یہ بات چونکہ آدم علیہ السلام کے ساتھ مخصوص نہیں تھی، بلکہ ان کی اولاد کو بھی شامل تھی، اس لئے اس کو خطاب جمع کے صیغہ سے ذکر کیا۔ پھر سجدے کے حکم، اور ابلیس کے انکار اور اس کے مردود ہونے کو ذکر کرکے ابلیس کا یہ انتقامی فقرہ ذکر کیا کہ میں ’’ان کو گمراہ کروں گا۔‘‘(۶) چونکہ شیطان کا مقصود صرف آدم علیہ السلام کو گمراہ کرنا نہیں تھا، بلکہ اولاد آدم سے انتقام لینا مقصود تھا، اس لئے اس نے جمع غائب کی ضمیریں ذکر کیں، چنانچہ آگے آیت:۲۷ میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تشریح فرمائی ہے کہ ’’اے اولاد آدم شیطان تم کو نہ بہکادے، جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکالا۔‘‘ اس سے صاف واضح ہے کہ شیطان کی انتقامی کاروائی اولاد آدم کے ساتھ ہے۔(۷)

اور ہبوط میں جمع کا صیغہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت آدم و حواء علیہما السلام کے علاوہ شیطان بھی خطاب میں شامل ہے۔(۸)

نیز تثنیہ کے لئے جمع کا خطاب بھی عام طور سے شائع و ذائع ہے،(۹) اور بایں نظر بھی خطاب جمع ہوسکتا ہے کہ آدم و حوا علیہما السلام کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی خطاب میں ملحوظ رکھا گیا ہو۔(۱۰)

جواب:۔

اُوپر عرض کرچکا ہوں کہ شیطان کے انتقام کا اصل نشانہ اولادِ آدم ہے، اور شیطان کے اس چیلنج سے اولادِ آدم ہی کو عبرت دلانا مقصود ہے۔

جواب:۔

حضرت آدم علیہ السلام بلاشبہ نبی تھے، خلیفۃ اللہ فی الارض تھے، ان کے زمانہ میں انہی کے ذریعے اَحکاماتِ الٰہیہ نازل ہوتے تھے۔ رہی ان کی خطا! سو اس کے بارے میں خود قرآنِ کریم میں آچکا ہے کہ: ’’آدم بھول گئے‘‘(۱۱) اور بھول چوک خاصۂ بشریت ہے، یہ نبوت و عصمت کے منافی نہیں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ اگر روزہ دار بھول کر کھالے تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔

  1. (۱) حوالہ بالا(ان اللہ تعالی کان قد شرع ۔۔۔ الخ)
  2. (۲) حوالہ بالا (ان اللہ تعالی کان قد شرع ۔۔۔ الخ)
  3. (۳) ﵟ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ ﵞ أی آدمﵟ مِن سُلَٰلَةٖ ﵞمن للإبتداء والسلالۃ الخلاصۃ، لأنھا تسلّ من بین الکدر وقیل إنّما سمّی التراب الذی خلق آدم منہ سلالۃ لأنہ سلّ من کل تربۃ من طین۔ (تفسیر نسفی ج:۲ ص:۴۶۱، تفسیر ابن کثیر ج:۴ ص:۴۶۹)۔
  4. (۴) ﵟ وَقَدۡ خَلَقَكُمۡ أَطۡوَارًا ١٤ ﵞ نوح ١٤قیل معناہ من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مضغۃ قالہ ابن عباس۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۶ ص:۳۱۵)۔
  5. (۵) قال تعالٰی: ﵟ وَلَقَدۡ خَلَقۡنَٰكُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنَٰكُمۡ ﵞ الأعراف ١١۔
  6. (۶) ﵟ قَالَ فَبِمَآ أَغۡوَيۡتَنِي لَأَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَٰطَكَ ٱلۡمُسۡتَقِيمَ ١٦ ﵞ الأعراف ١٦، ﵟ قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغۡوِيَنَّهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٨٢ ﵞ ص ٨٢۔
  7. (۷) أن المقصود من ذکر قصص الأنبیاء علیھم السلام حصول العبرۃ لمن یسمعھا فکأنہ تعالٰی لما ذکر قصۃ آدم وبیّن فیھا شدۃ عداوۃ الشیطان لآدم وأولَادہ أتبعھا بأن حذو أولَاد آدم من قبول وسوسۃ الشیطان وقال ﵟ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ لَا يَفۡتِنَنَّكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ كَمَآ أَخۡرَجَ أَبَوَيۡكُم مِّنَ ٱلۡجَنَّةِ ﵞ ۔۔۔إلخ۔ (التفسیر الکبیر ج:۱۴ ص:۵۳)۔
  8. (۸) اعلم أن ھٰذا الذی تقدم ذکرہ ھو آدم وحواء وإبلیس وإذا کان کذالک فقولہ اھبطوا یجب أن یتناول ھٰؤلَاء الثلاثۃ۔ (التفسیر الکبیر ج:۱۴ ص:۵۰)۔
  9. (۹) ﵟ وَقُلۡنَا ٱهۡبِطُواْ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوّٞۖ ﵞ۔۔۔ وإلی من انصرف ھٰذا الخطاب؟ فیہ ستّۃ أقوال ۔۔۔ والخامس إلٰی آدم وحواء وذریتھما، قالہ الفراء، والسادس إلٰی آدم وحواء فحسب، ویکون لفظ الجمع واقعًا علی التثنیۃ کقولہ وَكُنَّا لِحُكۡمِهِمۡ شَٰهِدِينَ ٧٨ ﵞ الأنبياء ٧٨ ٧٨ ذکرہ ابن الأنباری۔ (زاد المسیر فی علم التفسیر ج:۱ ص:۶۸)۔
  10. (۱۰) ﵟ وَقُلۡنَا ٱهۡبِطُواْ ﵞ۔۔۔ والخطاب لآدم وحواء والحیۃ والشیطان فی قول ابن عباس وقال الحسن: آدم وحواء والوسوسۃ، وقال مجاھد والحسن أیضًا بنو آدم وبنو إبلیس۔ (تفسیر القرطبی ج:۱ ص:۳۱۹)۔
  11. (۱۱) ﵟ وَلَقَدۡ عَهِدۡنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبۡلُ فَنَسِيَ وَلَمۡ نَجِدۡ لَهُۥ عَزۡمٗا ١١٥ ﵞ طه ١١٥فنسی العھد أی النھی والأنبیاء علیھم السلام یؤخذون بالنسیان الذی لو تکلّفوا لحفظوہ۔ (تفسیر نسفی ج:۲ ص:۳۸۶)۔