انبیائے کرام علیہم السلام
کیا انسان آدمؑ کی غلطی کی پیداوار ہے؟
سوال:۔
آدم علیہ السلام کو غلطی کی سزا کے طور پر جنت سے نکالا گیا اور اِنسانیت کی ابتدا ہوئی، تو کیا اس دُنیا کو غلطی کی پیداوار سمجھا جائے گا؟ یا پھر آدمؑ کی اس غلطی کو مصلحتِ خداوندی سمجھا جائے؟ اگر آدمؑ کی اس غلطی میں مصلحتِ خداوندی تھی تو کیا انسان کے اعمال میں بھی مصلحتِ خداوندی شامل ہوتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اَعمال و اَفعال کی سزا کا ذمہ دار کیوں؟
جواب:۔
حضرت آدم علیہ السلام سے جو خطا ہوئی تھی وہ معاف کردی گئی،(۱) دُنیا میں بھیجا جانا بطور سزا کے نہیں تھا، بلکہ خلیفۃ اللہ کی حیثیت سے تھا۔(۲)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَعَصَىٰٓ ءَادَمُ رَبَّهُۥ فَغَوَىٰ ١٢١ ثُمَّ ٱجۡتَبَٰهُ رَبُّهُۥ فَتَابَ عَلَيۡهِ وَهَدَىٰ ١٢٢ ﵞ طه ١٢١ و ١٢٢۔
- (۲) ﵟ وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةٗۖ ﵞ البقرة ٣٠۔ ظاھر الآیۃ یدل علٰی أنہ تعالٰی إنما أخرج آدم وحواء من الجنّۃ عقوبۃ لھما علٰی تلک الزلۃ، وظاھر قولہﵟ إِنِّي جَاعِلٞ فِي ٱلۡأَرۡضِ خَلِيفَةٗۖ ﵞ یدل علٰی أنہ تعالٰی خلقھما لخلافۃ الأرض وأنزلھما من الجنّۃ إلی الأرض لھٰذا المقصود، فکیف الجمع بین الوجھین؟ وجوابہ: أنہ ربما قیل حصل لمَجموع الأمرین، واللہ أعلم۔ (التفسیر الکبیر ج:۱۴ ص:۵۳ طبع دار إحیاء التراث العربی، بیروت)۔

