انبیائے کرام علیہم السلام
حضرت آدم علیہ السلام کو سات ہزار سال کا زمانہ گزرا
سوال:۔
پچھلے دنوں اخبار میں ایک انسانی کھوپڑی کی تصویر چھپی تھی اور لکھا تھا کہ یہ کھوپڑی تقریباً سولہ لاکھ سال پُرانی ہے، یہ پڑھ کر تعجب ہوا، کیونکہ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام تھے، ان کو زیادہ سے زیادہ اس زمین پر آئے ہوئے دس ہزار سال گزرے ہوں گے، اس سے پہلے انسان کا اس زمین پر وجود نہ تھا، تو سائنس دانوں کا اس انسانی کھوپڑی کے بارے میں یہ خیال کہ یہ سولہ لاکھ سال پُرانی ہے، کہاں تک دُرست ہے؟ نیز یہ بھی فرمائیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو اس زمین پر آئے ہوئے اندازاً کتنے سال ہوگئے ہیں؟
جواب:۔
مؤرّخین کے اندازے کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو سات ہزار سال کے قریب زمانہ گزرا ہے،(۱) سائنس دانوں کے یہ دعوے کہ اتنے لاکھ سال پُرانی کھوپڑی ملی ہے، محض اَٹکل پچو ہیں۔
- (۱) عن عکرمۃ قال: کان بین آدم ونوح عشرۃ قرون کلھم علی الْإسلام۔ قال: أخبرنا محمد بن عمر بن واقد الأسلمی عن غیر واحد من أھل العلم قالوا: کان بین آدم ونوح عشرۃ قرون، والقرن مائۃ سنۃ، وبین نوح وإبراھیم عشرۃ قرون، والقرن مائۃ سنۃ، وبین إبراھیم وموسَی بن عمران عشرۃ قرون، والقرن مائۃ سنۃ۔ قال ۔۔۔ عن ابن عباس قال: کان بین موسَی بن عمران وعیسَی بن مریم ألف سنۃ وتسعمائۃ سنۃ ولم تکن بینھما فترۃ، وإنہ أرسل بینھما ألف نبی من بنی إسرائیل سوی من أرسل من غیرھم، وکان بین میلاد عیسٰی والنبی علیہ الصلاۃ والسلام خمسمائۃ سنۃ وتسع وستون سنۃ۔ (الطبقات الکبریٰ لِابن سعد: ذکر القرون والسنین التی بین آدم ومحمد، علیھما الصلٰوۃ والسلام۔ ج:۱ ص:۵۳ طبع بیروت)۔

