بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

مسئلہ حاضر و ناظر کی ایک دلیل کا جواب

سوال:۔

آج کل ایک فرقہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جگہ حاضر و ناظر ہونے کا دعویٰ بہت شدّت سے کر رہا ہے، اگرچہ میں نے آپ کی کتاب ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں نور اور بشر اور حاضر و ناظر ہونے کے بارے میں مضامین پڑھے ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کافی حد تک بات سمجھ میں آگئی ہے، لیکن ابھی کچھ دن پہلے میرے ایک دوست نے مجھے سورۂ فیل کی پہلی آیت (ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟) کا حوالہ دیا۔ جواب طلب بات یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے؟ نیز اس میں مخاطب کون ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا مؤمنین یا کوئی اور؟ اور سو اگر یہ واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا نہیں ہے تو اس سے کیا مراد ہے کہ: ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا‘‘؟

جواب:۔

جو واقعہ مشہور ہو اس کا حوالہ دیا کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ: ’’دیکھا! فلاں آدمی کا کیا حال ہوا تھا؟‘‘ گویا کسی واقعے کا مشہور ہونا ایسا ہے گویا اس کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اور ہر زبان میں ایسے محاورے موجود ہیں، اس سے مخاطب کا حاضر و ناظر ہونا لازم نہیں آتا، واللہ اعلم!