انبیائے کرام علیہم السلام
مسئلہ حاضر و ناظر اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ
سوال:۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج شریف! خلاصۃ المرام اینکہ: بندۂ ناچیز ماہنامہ ’’بینات‘‘ میں آپ کے مضامین پوری دِلچسپی سے پڑھتا ہے جو عقائد و اعمال و اخلاق میں کافی مفید ثابت ہوتے ہیں، اور بندہ کو آپ کی علمی قابلیت پر کافی اعتماد ہے، اس لئے پیش آمدہ اِشکالات کے اِزالہ کے لئے آپ کی ذات ہی کو منتخب کیا ہے، اُمید ہے کہ آنجنابِ عالی اپنے قیمتی لمحات میں سے کچھ وقت جوابات کے لئے نکال کر محقق بات لکھ کر بندہ کی تسلی و تشفی فرمائیں گے۔
اِشکال نمبر:۱:۔ آپ نے اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ص:۴۰ پر حاضر و ناظر کے مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود ہیں اور کائنات کی ایک ایک چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ہے، بداہتِ عقل کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں، چہ جائیکہ یہ شرعاً دُرست ہو۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس کو کسی دُوسری شخصیت کے لئے ثابت کرنا غلط ہے۔‘‘
اِدھر آپ کا نظریہ پڑھا، اُدھر شیخِ اجل حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے رسالہ ’’اقرب التوسل بالتوجہ الی سیّد الرسل بر حاشیہ اخبار الاخیار‘‘ ص:۱۷۰ میں فرماتے ہیں:
’’وبا چندیں اختلافات و کثرتِ مذاہب کہ در علمائے اُمت است یک کس را اختلافے نیست کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باحقیقت بے شائبہ مجاز تو ہم تاویل باقی است و بر اعمالِ اُمت حاضر و ناظر است۔‘‘
اس عبارت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت محدث دہلویؒ کے زمانے تک حاضر و ناظر کے مسئلے میں اُمتِ محمدیہ کے کسی ایک فرد نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ شاہ صاحبؒ کے زمانے کے بعد کسی کا اختلاف شاہ صاحب کے قول کو باطل نہیں کرسکتا۔ نیز اس میں ’’براعمالِ اَمت‘‘ کا لفظ ہے، اگر اُمت کو اُمتِ اجابت و دعوت دونوں کے لئے عام رکھا جائے اور ابتدا سے انتہا تک تمام کائنات کے احوال کو نگاہِ رسالت پر منکشف مانا جائے، اس میں کون سا استحالہ لازم آتا ہے؟ جیسا کہ شیخ رحمہ اللہ خود تصریح فرما رہے ہیں:
’’ہر چہ در دنیا است از زمان آدم تا نفخۂ اُولیٰ بروے صلی اللہ علیہ وسلم منکشف ساختند تا ہمہ احوال اورا از اول تا آخر معلوم گردید۔‘‘ (مدارج النبوۃ ج:۱)
اور اس بارے میں طبرانی کی حدیث بھی موجود ہے:
’’إِنَّ اللّٰهَ قَدْ رَفَعَ لِيَ الدُّنْيَا، وَإِنِّيْ أَنْظُرُ إِلَيْهَا وَإِلٰى مَا هُوَ كَائِنٌ فِيْهَا۔‘‘
نیز یہی شیخ رحمۃ اللہ علیہ مدارج النبوۃ ج:۲ ص:۷۸۷ مطبوعہ نولکشور میں فرماتے ہیں:
’’بدانکہ وے صلی اللہ علیہ وسلم مے بیند ومے شنود کلام ترا زیرا کہ وے متصف است بہ صفات اللہ تعالیٰ ویکے از صفات الٰہی آنست کہ ’’أَنَا جَلِيْسُ مَنْ ذَكَرَنِيْ‘‘ وپیغمبر را صلی اللہ علیہ وسلم نصیب وافر ست ازیں صفت۔‘‘
نیز مدارج النبوۃ ج:۲ ص:۷۸۹ (مطبوعہ نولکشور) میں فرماتے ہیں:
’’وصیت میکنم ترا اے برادر! بدوام ملاحظہ صورت و معنی او اگرچہ باشی تو بتکلف و مستحقر پس نزدیک است کہ الفت گیرد روح تو بوے، پس حاضر آید تراوے صلی اللہ علیہ وسلم عیانا ویابی اورا، وحدیث کنی باوے وجواب دہد تراوی وحدیث گوید باو و خطاب کند ترا، پس فائز شوی بدرجہ صحابہ عظام ولاحق شوی بایشاں اِن شاء اللہ تعالیٰ۔‘‘
موجودہ علماء کی فہم و فراست بھی مسلّم، لیکن متقدمین علماء کی فہم و فراست یقینا بدرجہا فائق ہے۔ جن دلائل کی بنا پر مسئلہ حاضر و ناظر کی تردید کی جاتی ہے، کیا وہ دلائل حضرت محدث مرحوم کے سامنے نہ تھے؟ اگر حاضر و ناظر کا عقیدہ شرک ہوتا تو ایسے عظیم المرتبت شیخ اس عقیدہ کو متفق علیہ علمائے اُمت کیسے فرماتے ہیں؟ کیا تمام اکابر شرک میں مبتلا تھے؟ نعوذ باﷲ من ذٰلک! اگر آپ کا نظریہ صحیح ہے تو ان عباراتِ بالا کا کیا جواب ہے؟
اُمید ہے کہ آپ میری اس بات کی پوری تحقیق سے کامل تشفی فرمائیں گے، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
جواب:۔
مسئلہ حاضر و ناظر کے سلسلے میں اس ناکارہ نے یہ لکھا تھا:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روضۂ اطہر میں اِستراحت فرما ہیں، اور دُنیا بھر کے مشتاقانِ زیارت وہاں حاضری دیتے ہیں۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود ہیں اور کائنات کی ایک ایک چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ہے، بداہتِ عقل کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں، چہ جائیکہ یہ شرعاً دُرست ہو۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس کو کسی دُوسری شخصیت کے لئے ثابت کرنا غلط ہے۔‘‘
حضرتِ اقدس شاہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہٗ کا عقیدہ بھی یہی ہے، چنانچہ وہ اپنے رسالہ ’’ ’’تحصیل البرکات بہ بیان معنی التحیات‘‘ میں (جو کتاب المکاتیب والرسائل میں اڑتیسواں رسالہ ہے) ’’السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ‘‘ کے ذیل میں لکھتے ہیں:
’’اگر گویند کہ خطاب مر حاضر رابود، و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دریں مقام نہ حاضر است، بس توجیہ ایں خطاب چہ باشد؟
جوابش آنست کہ چوں ورود ایں کلمہ دراصل یعنی در شبِ معراج بصیغہ خطاب بود، دیگر تغیرش ندادند وبرہماں اصلی گزاشتند۔
ودر شرح صحیح بخاری میگوید کہ صحابہ در زمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بصیغہ خطاب میگفتند وبعد از زمانِ حیاتش ایں چنیں میگفتند السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، نہ بلفظ خطاب۔‘‘ (تحصیل البرکات بہ بیان معنی التحیات ص:۱۸۹)
ترجمہ:۔ ’’اگر کہا جائے کہ خطاب تو حاضر کو ہوتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس مقام میں حاضر نہیں، پس اس خطاب کی توجیہ کیا ہوگی؟
جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ اصل میں یعنی شبِ معراج میں یہ کلمہ صیغۂ خطاب کے ساتھ وارِد ہوا تھا، اس لئے اس کو اپنی اصل حالت پر رکھا گیا، اور اس میں کوئی تغیر نہیں کیا گیا۔
اور صحیح بخاری کی شرح میں لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صیغۂ خطاب کے ساتھ سلام کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد’’السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ‘‘ کہتے تھے، خطاب کا صیغہ استعمال نہیں کرتے تھے۔‘‘
اور مدارج النبوۃ باب پنجم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص و فضائل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وازاں جملہ خصائص ایں را نیز ذکر کردہ اند کہ مصلّی خطاب میکند آنحضرت را صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقول خود السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ وخطاب نمی کند غیر اورا۔
اگر مراد بایں اختصاص آں داشتہ اند کہ سلام برغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بخصوص واقع نہ شدہ است پس ایں معنی موافق است بحدیثے کہ از ابن مسعود رضی اللہ عنہ آمدہ است۔
۔۔۔۔۔۔ واگر مراد ایں دارند کہ خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود غیبت از خصائص است، نیز وجہے دارد۔
ووجہ ایں میگویند کہ چوں دراصل شبِ معراج درود بصیغۂ خطاب بود کہ از جانب رب العزت سلام آمد بر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد ازاں ہم بریں صیغہ گزاشتند۔
ودر کرمانی شرح صحیح البخاری گفتہ است کہ صحابہ بعد از فوت حضرت السلام علی النبی میگفتند، نہ بصیغۂ خطاب،و اﷲ اعلم!‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور علماء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں ایک یہ بات ذکر کی ہے کہ نمازی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُکہہ کر خطاب کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی دُوسرے کو خطاب نہیں کرتا۔
اگر خصوصیت سے علماء کی مراد یہ ہے کہ نماز میں سلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا خصوصیت کے ساتھ کسی دُوسرے کے لئے واقع نہیں ہوا تو یہ مضمون اس حدیث کے موافق ہے جو حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
اور اگر علماء کی مراد یہ ہو کہ غائب ہونے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے تو یہ بات بھی ایک معقول وجہ رکھتی ہے، اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ چونکہ دراصل شبِ معراج میں دُرود صیغۂ خطاب کے ساتھ تھا کہ حضرت رَبّ العزّت کی جانب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا گیا، اس لئے بعد میں اسی صیغہ کو برقرار رکھا گیا۔
اور کرمانی شرح صحیح بخاری میں ہے کہ صحابہ کرامؓ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ’’السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ‘‘ کہتے تھے، صیغۂ خطاب کے ساتھ نہیں کہتے تھے، واﷲ اعلم!‘‘ (ج:۱ ص:۱۶۵)
حضرت شیخ محدث دہلوی قدس سرہٗ کی ان عبارتوں سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر نہیں سمجھتے، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب تسلیم کرتے ہوئے سلام بصیغۂ خطاب کی توجیہ فرماتے ہیں۔ دُوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ شیخ رحمہ اللہ سے پہلے کے علماء بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔ اور تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی حاضر و ناظر کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے، چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفاتِ شریفہ کے بعد التحیات میں ’’السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ کے بجائے غائب کا صیغہ استعمال کرتے اور ’’السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ‘‘ کہا کرتے تھے۔
واضح رہے کہ شیخ رحمہ اللہ نے جو بات کرمانی شرح بخاری کے حوالے سے نقل کی ہے، وہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، ہم التحیات میں’’السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ پڑھا کرتے تھے، مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا تو ہم اس کے بجائے ’’السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ‘‘ کہنے لگے۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۹۲۶)(۱)
اس ناکارہ نے ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں اس حدیث کو نقل کرکے لکھا تھا:
’’صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مقصد اس سے یہ بتانا تھا کہ التحیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کے صیغے سے جو سلام کہا جاتا ہے، وہ اس عقیدے پر مبنی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و موجود ہیں اور ہر شخص کے سلام کو خود سماعت فرماتے ہیں، نہیں! بلکہ خطاب کا صیغہ اللہ تعالیٰ کے سلام کی حکایت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شبِ معراج میں فرمایا گیا تھا۔‘‘ (ص:۴۷)
اس تمہید کے بعد شیخ رحمہ اللہ کی ان عبارتوں کی وضاحت کرتا ہوں جن کا آپ نے حوالہ دیا ہے۔
۱:۔ ’’اقرب الی التوسل‘‘ کی جو عبارت آپ نے نقل کی ہے، اس میں آپ کے نسخے میں شاید طباعت کی غلطی سے ایک لفظ رہ گیا ہے، جس سے مطلب سمجھنے میں اُلجھن پیدا ہوگئی ہے، میرے سامنے ’’المکاتیب والرسائل‘‘ مجتبائی نسخہ ہے جو ۱۲۹۷ھ میں شائع ہوا تھا، اس میں یہ عبارت صحیح نقل کی ہوئی ہے، اور وہ اس طرح ہے:
’’وباچندیں اختلافات و کثرت مذاہب کہ در علمائے امت است یک کس را خلافے نیست کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحقیقت حیات بے شائبہ مجاز و توہم تأویل دائم وباقی ہست، وبر اعمال امت حاضر وناظر، ومر طالبان حقیقت را ومتوجہان آنحضرت را مفیض و مربی است۔‘‘ (ص:۹۵)
ترجمہ:۔ ’’اور باوجود اس قدر اختلافات اور کثرتِ مذاہب کے جو علمائے اُمت میں موجود ہیں ایک شخص کو بھی اس میں اختلاف نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حیاتِ حقیقی کے ساتھ، جس میں مجاز اور تأویل کے وہم کا کوئی شائبہ نہیں، دائم و باقی ہیں۔ اور اُمت کے اعمال پر حاضر و ناظر ہیں، اور طالبانِ حقیقت اور اپنی طرف متوجہ ہونے والوں کو فیض پہنچاتے ہیں اور ان کی تربیت فرماتے ہیں۔‘‘
اس عبارت میں زیرِ بحث مسئلہ حاضر و ناظر سے تعرض نہیں بلکہ یہ ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو روضۂ اطہر میں حیاتِ حقیقیہ حاصل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں اُمت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طالبانِ حقیقت کو بدستور افاضۂ باطنی فرماتے ہیں۔
پس ’’بر اَعمالِ اُمت حاضر و ناظر‘‘ کا وہی مطلب ہے جو عرضِ اعمال کی احادیث میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ خصائصِ نبوی کے بیان میں لکھتے ہیں:
’’وازاں جملہ آنست کہ عرض کردہ می شود بر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعمالِ اُمت واستغفار می کند مر ایشاں را وروایت کردہ است ابن المبارک از سعید بن المسیب کہ ہیچ روزے نیست مگر آنکہ عرض کردہ میشود بر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعمالِ اُمت صبح و شام وی شناسد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایشاں را بسیمائے ایشاں واعمال ایشاں۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ایک یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اُمت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے اِستغفار فرماتے ہیں۔ ابنِ مبارکؒ، سعید بن مسیبؒ سے روایت کرتے ہیں کہ کوئی دن نہیں گزرتا مگر یہ کہ اُمت کے اعمال صبح و شام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ان کی علامتوں سے اور ان کے اعمال سے پہچانتے ہیں۔‘‘
الغرض! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روضۂ مقدسہ میں اِستراحت فرما ہیں اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اُمت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، اور انہیں ملاحظہ فرماتے ہیں، یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ موجود ہیں اور ہر شخص کے ہر عمل کو بچشمِ خود ملاحظہ فرماتے ہیں، کیونکہ جیسا کہ اُوپر معلوم ہوچکا ہے، اس بات کے نہ حضرت شیخ دہلویؒ خود قائل ہیں، نہ ان سے پہلے کے اہلِ علم قائل تھے، اور نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی یہ عقیدہ رکھتے تھے، ورنہ نماز میں ’’السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ کہنے پر ان کو اِشکال نہ ہوتا، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس کے بجائے ’’السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ‘‘ بصیغۂ غائب کہنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے، وَاللّٰهُ الْمُوَفِّقُ!
۲:۔ مدارج النبوۃ جلد اوّل کے حوالے سے جو ذکر فرمایا ہے کہ: ’’دُنیا اوّل سے آخر تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف کی گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اَوّل سے آخر تک اس کے تمام حالات معلوم ہوگئے‘‘ اور طبرانی کی جو حدیث نقل کی ہے کہ: ’’اللہ تعالیٰ نے میرے سامنے دُنیا کو پیش کیا، درآںحالیکہ میں اس کی طرف اور جو کچھ اس میں ہونے والا ہے، اس کی طرف دیکھ رہا تھا‘‘ اس سے یہ مراد نہیں کہ کائنات کے ذرّہ ذرّہ کا علم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر لمحہ رہتا ہے، یا یہ کہ کائنات کے ذرّہ ذرّہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاضر و ناظر ہیں، بلکہ مراد اس سے کشف اور رُؤیت ہے۔ اس کی مثال ایسی سمجھ لیجئے کہ آپ کسی معزّز مہمان کو اپنے کارخانے کی سیر کراتے ہیں، پورا کارخانہ اس کی نظر کے سامنے ہے اور اس کے سارے حالات اسے معلوم ہوگئے، اس کے باوجود یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس معزّز مہمان کو کارخانے کی ایک ایک چیز کا تفصیلی علم ہوگیا اور نہ یہ لازم آتا ہے کہ اس کارخانے کی ادنیٰ ادنیٰ جزئیات اس کے ذہن میں ہر لمحہ محفوظ رہا کریں، حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:
’’واز جملہ معجزاتِ باہرہ وے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بودن اوست مطلع برغیوب، وخبر دادن بآنچہ حادث خواہد شد از کائنات، علمِ غیب اصالۃ مخصوص است بہ پروردگار تعالیٰ وتقدس کہ علام الغیوب است و ہرچہ بر زبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وبعضے از تابعان وے ظاہر شدہ بوحی یا بالہام۔ ودر حدیث آمدہ است: وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ۔‘‘ (مدارج النبوۃ ج:۱ ص:۲۴۶)
ترجمہ:۔ ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزاتِ باہرہ میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلع ہونا ہے غیب کی چیزوں پر، اور خبر دینا ہے کائنات کے ان حوادث کی جو آئندہ واقع ہوں گے۔ علمِ غیب دراصل مخصوص ہے پروردگار تعالیٰ و تقدس کے ساتھ جو کہ علام الغیوب ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک پر یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض پیرؤوں کی زبان پر جو کچھ ظاہر ہوا وہ وحی و اِلہام کے ذریعہ ہے، اور حدیث میں آیا ہے کہ: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا مگر جو کچھ میرے رَبّ نے مجھے سکھایا ہے۔‘‘
حضرت شیخ رحمہ اللہ نے اس مقام پر جو کچھ فرمایا ہے اس ناکارہ نے یہی کچھ ’’اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم‘‘ میں رقم کیا تھا۔ شیخ رحمہ اللہ کی اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علمِ غیب اور چیز ہے اور غیب کی باتوں پر بذریعہ وحی یا اِلہام کے مطلع ہوجانا دُوسری چیز ہے۔ علمِ غیب خاصۂ خداوندی ہے جس میں کوئی دُوسرا شریک نہیں۔ اور اِطلاع علی الغیب بذریعہ وحی اور اِلہام کی دولت حضراتِ انبیائے کرام علیہم السلام اور اولیائے عظام رحمہم اللہ کو حسبِ مراتب حاصل ہے۔
۳:۔ تیسری عبارت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تصوّر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مبارکہ کے اِستحضار سے متعلق ہے۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے اس اَمر کو بیان فرما رہے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق پیدا کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات سے فیض حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ظاہری اور دُوسری معنوی۔ اور تعلقِ معنوی کی دو قسمیں ہیں۔ اوّل یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مبارکہ کا دائمی اِستحضار رکھا جائے (قسم اوّل: دوام استحضار آں صورت بدیع مثال)۔اور اس اِستحضار کے مختلف طریقے بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: تمہیں کبھی خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالِ جہاں آرا کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے تو اسی صورتِ مبارکہ کا اِستحضار کرو جو خواب میں نظر آئی تھی، اور اگر کبھی خواب میں زیارت نصیب نہیں ہوئی تو:
’’ذکر کن اورا و درود بفرست بروے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم وباش در حال ذکر گویا حاضر است درپیش در حالتِ حیات، ومی بینی تو اورا متادب باجلال و تعظیم و ہمت و حیا۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرود بھیج، اور یاد کرنے کی حالت میں ایسا ہو کہ گویا تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں سامنے حاضر ہو، اور تم اجلال و تعظیم اور ہمت و حیا کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے ہو۔‘‘
آگے وہی عبارت ہے جو آپ نے نقل کی ہے، پس یہ ساری گفتگو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معنوی تعلق پیدا کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورتِ مبارکہ کا ذہن میں اِستحضار رکھنے سے متعلق ہے، خود سوچئے کہ ہمارے زیرِ بحث مسئلہ حاضر و ناظر سے اسے کیا تعلق ہے؟
۴:۔ اسی طرح آپ کی نقل کردہ آخری عبارت بھی زیرِ بحث مسئلے سے تعلق نہیں رکھتی، بلکہ جیسا کہ خود اسی عبارت میں موجود ہے: ’’دوام ملاحظہ صورت ومعنی‘‘ کے ذریعہ رُوحِ نبوی سے تعلق پیدا کرنے کی تدبیر بتائی گئی ہے، جس کا حاصل وہی مراقبہ و اِستحضار ہے۔ اور اس دوام و اِستحضار کا نتیجہ یہ ذکر فرمایا گیا ہے کہ: ’’پس حاضر آید تراوے صلی اللہ علیہ وسلم عیاناً‘‘ یعنی بذریعہ کشف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوجانا۔
جس طرح خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے، اسی طرح بعض اکابر کو بیداری میں زیارت ہوتی ہے، (اور شیخ رحمہ اللہ اسی دولت کے حصول کی تدبیر بتارہے ہیں) مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر مانا جائے، یا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روضۂ مقدسہ سے باہر تشریف لے آئیں، بلکہ خواب کی طرح بیداری میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت متمثل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ شیخ رحمہ اللہ نے ’’مدارج النبوۃ‘‘ (قسم اوّل، بابِ پنجم) میں اس مسئلے پر طویل گفتگو کی ہے، اس کے آخر میں فرماتے ہیں:
’’وہمچنا کہ جائز است کہ در منام جوہر شریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم متصور و متمثل گردد بے شوب شیطان، در یقظہ نیز حاصل گردد و آنچہ نائم در نوم می بیند مستیقظ در یقظہ بہ بیند ۔۔۔۔۔۔ و تمثیل ملکوتی بصورت ناسوتی امرے مقرر است، وایں مستلزم نیست کہ آنحضرت علیہ السلام از قبر برآمدہ باشد۔
بالجملہ دیدن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعد از موت مثال است، چنانچہ در نوم مرئی شود در یقظہ نیز می نماید۔ وآں شخص شریف کہ در مدینہ در قبر آسودہ وحی است ہماں متمثل میگردد و دریک آن متصور بصور متعددہ، عوام را در منام می نماید و خواص را در یقظہ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’جس طرح یہ جائز ہے کہ خواب میں شیطانی تمثل کی آمیزش کے بغیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوہر شریف متصوّر اور متمثل ہوجائے، اسی طرح بیداری میں بھی یہ چیز حاصل ہوجائے، اور جس چیز کو سونے والا خواب میں دیکھتا ہے، بیدار اسے بیداری میں دیکھ لے ۔۔۔۔۔۔ اور ملکوتی چیز کا ناسوتی شکل میں متمثل ہوجانا ایک طے شدہ اَمر ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنفسِ نفیس روضۂ اطہر سے باہر تشریف لے آئیں۔
خلاصہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دیکھنا بصورتِ مثال ہوتا ہے، وہ مثال جیسا کہ خواب میں نظر آتی ہے، بیداری میں بھی نظر آتی ہے اور وہ ذاتِ اقدس جو مدینہ طیبہ میں روضۂ مقدسہ میں اِستراحت فرما ہے اور زندہ ہے، وہی بصورتِ مثال متمثل ہوتی ہے، اور ایک آن میں متعدّد صورتوں میں متمثل ہوتی ہے، عوام کو خواب میں نظر آتی ہے اور خواص کو بیداری میں۔‘‘
شیخ رحمہ اللہ کی اس عبارت سے واضح ہوجاتا ہے کہ خواب یا بیداری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بصورتِ مثال ہوتی ہے، یہ نہیں کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبر شریف سے نکل کر دیکھنے والے کے پاس آجاتے ہوں۔ خلاصہ یہ کہ حاضر و ناظر کے مسئلے میں شیخ رحمہ اللہ کا عقیدہ وہی ہے جو اس ناکارہ نے لکھا تھا۔ شیخ رحمہ اللہ کی ان عبارتوں میں جو آپ نے نقل کی ہیں، اس مسئلے سے کوئی تعرض نہیں۔
۵:۔ شیخ نوّر اللہ مرقدہٗ نے اپنی متعدّد کتابوں میں بعض عارفین کے حوالے سے لکھا ہے کہ حقیقتِ محمدیہ تمام کائنات میں ساری ہے، چنانچہ ’’السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ کی بحث میں مدارج النبوۃ کی جو عبارت اُوپر گزر چکی ہے، اس کے متصل فرماتے ہیں:
’’و در بعضے کلام بعضے عرفا واقع شدہ کہ خطاب از مصلّی بملاحظہ شہود روحِ مقدس آنحضرت و سریان وے در زواری موجودات خصوصاً در ارواحِ مصلیین است وبالجملہ دریں حالت از شہود وجود حضور از آنحضرت غافل و ذاہل نباید بود، بامید ورود فیوض از روح پر فتوح وے صلی اللہ علیہ وسلم۔‘‘ (مدارج النبوۃ ج:۱ ص:۱۶۵)
یہی مضمون ’’تحصیل البرکات‘‘، ’’لمعات‘‘ اور ’’اشعۃ اللمعات‘‘ میں بھی ذکر فرمایا ہے۔
اس سے بعض حضرات کو یہ وہم ہوا کہ شیخ رحمہ اللہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر و ناظر ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، حالانکہ ’’حقیقتِ محمدیہ‘‘، ’’حقیقت کعبہ‘‘ اور ’’حقیقت قرآن‘‘ حضراتِ عارفین کی خاص اصطلاحات ہیں، جن کا سمجھنا عقولِ عامہ سے بالاتر چیز ہے۔ حضراتِ عارفین کے حقائق و معارف اپنی جگہ برحق ہیں، مگر انہیں اپنی فہم کے پیمانے میں ڈھال کر ان پر عقائد کی بنیاد رکھنا بڑی بے انصافی ہے۔
- (۱) ۔۔۔ سمعت ابن مسعود یقول: علمنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ التشھد ۔۔۔ التحیات ﷲ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی ۔۔۔ وھو بین ظھرانینا فلما قبض قلنا: السلام علٰی یعنی علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔

