بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے کرام علیہم السلام

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں یا بشر؟

سوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دِین و مفتیان اس بارے میں کہ زید کہتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عام انسانوں کی طرح لفظ ’’بشریت‘‘ سے پکارا جائے۔ عمرو کہتا ہے کہ یہ غلط ہے، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور میں درجہ بشریت میں بھی اور نورانیت میں بھی ہیں۔ آیا ان دونوں میں کون حق پر ہے؟

جواب:۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نوع کے لحاظ سے بشر ہیں، اور قرآنِ کریم کے الفاظ میں ’’بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ‘‘ ہیں۔ ہادیٔ راہ ہونے کی حیثیت سے نور اور سراپا نور ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انسان ہیں اور بشر انسان ہی کو کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انسان ماننا فرض ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انسانیت کا انکار کفر ہے۔(۱) اس سے معلوم ہوا کہ اگر زید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کا بھی قائل ہے تو اس کا موقف بھی صحیح ہے اور اگر بشریت اور نورانیت میں تضاد سمجھتا ہے تو اس کا موقف غلط ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشرِ کامل ہیں اور صفتِ ہدایت کے اعتبار سے نورِ کامل ہیں۔

  1. (۱) من قال: لَا أدری ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إنسیًّا أو جنیًّا یکفر۔ (بحر الرائق ج:۵ ص:۱۳۰)، ﵟ فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٞ يَهۡدُونَنَا ﵞ التغابن ٦۔ أنکروا الرسالۃ للبشر ولم ینکروا العبادۃ للحجر۔ (تفسیر نسفی ج:۳ ص:۴۹۱، طبع بیروت)۔