انبیائے کرام علیہم السلام
بشریتِانبیاءعلیہمالسلام
سوال:۔
جناب مکرمی مولانا صاحب! السلام علیکم، بعدہٗ عرض ہے کہ آپ کا رسالہ ’’بینات‘‘ شاید پچھلے سال یعنی ۱۹۸۰ء کا ہے، اس کا مطالعہ کیا، جس میں چند جگہ کچھ اس قسم کی باتیں دیکھنے میں آئیں کہ جن کی وضاحت ضروری ہے، کیونکہ میں نے دیگر حضرات کی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہے، جس سے آپ کی بات اور ان حضرات کی بات میں بڑا فرق ہے، یا تو آپ ان کے خلاف ہیں؟ یا ان کی تحریروں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
مثلاً: نمبر۱ صفحہ:۳۷۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لحاظ سے نہ صرف نوعِ بشر میں داخل ہیں، بلکہ افضل البشر ہیں، نوعِ انسان کے سردار ہیں، آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں، ’’بشر اور انسان دونوں ہم معنی لفظ ہیں۔‘‘
لیکن جب میں دُوسرے حضرات کی تصانیف کو سامنے رکھتا ہوں تو زمین و آسمان کا فرق محسوس ہوتا ہے، آخر اس کی کیا وجہ؟ حالانکہ شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ:
’’تحقیق اُمت نے اِجماع کیا اس پر کہ شریعت کی معرفت میں سلف پر اعتماد کیا جائے، پس تابعین نے اعتماد کیا صحابہ کرامؓ پر اور تبع تابعین نے تابعین پر، اس طرح ہر طبقے میں علماء نے اپنے پہلوں پر اِعتماد کیا۔‘‘ (عقد الجید ص:۳۶ مطبع دہلی)
اُمید ہے کہ اگر دِین کا سمجھدار طبقہ یا کم از کم وہ حضرات جو تبلیغِ دِین میں قدم رکھتے ہیں وہ تو اس طریقے کو اِختیار کریں، تاکہ دِین میں تواتر قائم رہے۔ اب مندرجہ بالا مسئلے میں آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم صرف بشر ہیں مگر افضل ہیں، انسانوں کے سردار اور آدم علیہ السلام کی نسل میں سے ہیں، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت بشر ہے۔ مگر۔۔۔!
حکیم الامت جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے اپنی تصنیف ’’نشر الطیب‘‘ میں پہلا باب ہی نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھا ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اللہ تعالیٰ نے نور سے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے ساری کائنات کی پیدائش کا اظہار کیا ہے، اور اس ضمن میں چند احادیث بھی روایت کی ہیں، جن میں یہ ذکر بھی ہے کہ: ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار برس پہلے اپنے رَبّ کے پاس نور تھے۔‘‘
اور یہ بھی ہے کہ: میں اس وقت نبی تھا جبکہ آدم علیہ السلام ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے۔
اور جناب رشید احمد گنگوہیؒ فرماتے ہیں: امداد السلوک میں اور احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سایہ نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں۔
حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ نے (دفتر سوم مکتوب نمبر:۱۰۰ میں) فرمایا، جس سے چند باتوں کا اظہار ہوتا ہے:
۱:۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک نور ہیں، کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خُلِقْتُ مِنْ نُوْرِ اللہِ ‘‘ میں اللہ کے نور سے پیدا ہوا ہوں۔
۲:۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں اور آپ کا سایہ نہ تھا۔
۳:۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نور ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حکمت و مصلحت کے پیش نظر بصورت انسان ظہور فرمایا۔
مطلب یہ کہ مجدد صاحبؒ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کو نور ہی مانتے ہیں، لیکن قدرتِ خداوندی نے مصلحت کے تحت شکل انسانی میں ظہور کیا۔
رسالہ ’’التوسل‘‘ جو مولوی مشتاق احمد صاحب دیوبندی کی تصنیف ہے اور مولوی محمود الحسن صاحب، مفتی کفایت اللہ صاحب اور مفتی محمد شفیع صاحب علمائے دیوبند کی تصدیقات سے مؤید ہے، اس میں لکھا ہے کہ: ’’قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٞ وَكِتَٰبٞ مُّبِينٞ ‘‘ میں نور سے مراد حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ نور اور سراج منیر کا اطلاق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اسی وجہ سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نورِ مجسم اور روشن چراغ ہیں۔
نور اور چراغ ہمیشہ ذریعہ وسیلہ صراطِ مستقیم کے دیکھنے اور خوفناک طریق سے حالتِ حیات میں بھی وسیلہ ہے اور بعد وفات بھی وسیلہ ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دُنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد عبدالمطلب کو قریش مصیبت کے وقت اسی نور کے سبب حل مشکلات کا وسیلہ بنایا کرتے تھے۔ (التوسل صفحہ: ۲۲۔ تفسیر کبیر ج:۳ ص:۵۶۶)۔
’’قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللہِ نُوْرٌ وَكِتَابٌ مُّبِيْنٌ، اِنَّ الْمُرَادَ بِالنُّوْرِمُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِالْكِتَابِ الْقُرْاٰنُ۔‘‘ (تفسیر کبیر ج:۱۱ ص:۱۸۹)۔
آپ سے عرض ہے کہ آپ بتائیں کہ یہ عقائد درست ہیں؟
نوٹ:۔ ان حضرات کے عقائد سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت نور ثابت ہے جو آدم علیہ السلام سے پہلے پیدا ہوا۔
جواب:۔
حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہٗ کے حوالے سے آپ نے جو اُصول نقل کیا ہے کہ: ’’شریعت کی معرفت میں سلف پر اعتماد کیا جائے‘‘ یہ بالکل صحیح ہے۔ لیکن آنجناب کا یہ خیال صحیح نہیں کہ راقم الحروف نے نور و بشر کی بحث میں اس اُصول سے اِنحراف کیا ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیک وقت نور بھی ہیں اور بشر بھی، اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور اور بشر ہونے میں کوئی منافات نہیں کہ ایک کا اثبات کرکے دُوسرے کی نفی کی جائے، بلکہ آپ صفتِ ہدایت اور نورانیتِ باطن کے اعتبار سے نورِ مجسم ہیں اور اپنی نوع کے اعتبار سے خالص اور کامل بشر ہیں۔
بشر اور انسان ہونا کوئی عار اور عیب کی چیز نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس کا اِنتساب خدانخواستہ معیوب سمجھا جائے، اِنسانیت و بشریت کو خدا تعالیٰ نے چونکہ ’’احسن تقویم‘‘ فرمایا ہے،(۱) اس لئے بشریت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کمالِ شرف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انسان ہونا انسانیت کے لئے موجبِ صد عزّت و اِفتخار ہے۔
میرے علم میں نہیں کہ حضراتِ سلف صالحین میں سے کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائرۂ اِنسانیت سے خارج کیا ہو۔ بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بشریت میں بھی منفرد ہیں، اور شرف و منزلت کے اعتبار سے تمام کائنات سے بالاتر اور: ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘ کے مصداق ہیں، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اکمل البشر، افضل البشر اور سیّد البشر ہونا ہر شک و شبہ سے بالاتر ہے، کیوں نہ ہو جبکہ خود فرماتے ہیں:
’’أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ‘‘(مشکوٰۃ ص:۵۱۱، ۵۱۳)
ترجمہ:۔ ’’میں اولاد آدم کا سردار ہوں گا قیامت کے دن، اوریہ بات بطورِ فخر نہیں کہتا!‘‘
قرآنِ کریم میں اگر ایک جگہ:
قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٞ وَكِتَٰبٞ مُّبِينٞ (المائده ١٥)
فرمایا ہے، (اگر نور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی مراد لی جائے) تو دُوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہے:(بني إسرائيل ٩٣)
ترجمہ:۔ ’’آپ فرمادیجئے کہ: سبحان للہ! میں بجز اس کے کہ آدمی ہوں، پیغمبر ہوں اور کیا ہوں؟‘‘
ﵟ قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞۖ ﵞ (الكهف ١١٠)
ترجمہ:۔ ’’آپ کہہ دیجئے کہ میں تو تم ہی جیسا بشر ہوں، میرے پاس بس یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔‘‘
ﵟ وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٖ مِّن قَبۡلِكَ ٱلۡخُلۡدَۖ أَفَإِيْن مِّتَّ فَهُمُ ٱلۡخَٰلِدُونَ ٣٤ ﵞ (الأنبياء ٣٤)
ترجمہ:۔ ’’اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے پہلے کسی بھی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا، پھر اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انتقال ہوجائے، تو کیا یہ لوگ دُنیا میں ہمیشہ کو رہیں گے؟‘‘
قرآنِ کریم یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ نوعِ بشر ہی سے بھیجے گئے:
ﵟ مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤۡتِيَهُ ٱللَّهُ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحُكۡمَ وَٱلنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُواْ عِبَادٗا لِّي مِن دُونِ ٱللَّهِ ﵞ (آل عمران ٧٩)
ترجمہ:۔ ’’کسی بشر سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور فہم اور نبوّت عطا فرمادے، پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ میرے بندے بن جاؤ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر۔‘‘
ﵟ وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ ٱللَّهُ إِلَّا وَحۡيًا أَوۡ مِن وَرَآيِٕ حِجَابٍ أَوۡ يُرۡسِلَ رَسُولٗا فَيُوحِيَ بِإِذۡنِهِۦ مَا يَشَآءُۚ ﵞ (الشورى ٥١)
ترجمہ:۔ ’’اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرماوے مگر (تین طریق سے) یا تو اِلہام سے، یا حجاب کے باہر سے، یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کو منظور ہوتا ہے، پیغام پہنچادیتا ہے۔‘‘
اور انبیائے کرام علیہم السلام سے یہ اعلان بھی کرایا گیا ہے:
ﵟ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ إِن نَّحۡنُ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَمُنُّ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ ﵞ (ابراهيم ١١)
ترجمہ:۔ ’’ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرمادے۔‘‘
قرآنِ کریم نے یہ بھی بتایا کہ بشر کی تحقیر سب سے پہلے اِبلیس نے کی، اور بشرِ اوّل حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے یہ کہہ کر اِنکار کردیا:
ﵟ قَالَ لَمۡ أَكُن لِّأَسۡجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقۡتَهُۥ مِن صَلۡصَٰلٖ مِّنۡ حَمَإٖ مَّسۡنُونٖ ﵞ (الحجر ٣٣)
ترجمہ:۔ ’’کہنے لگا: میں ایسا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جس کو آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے، جو سڑے ہوئے گارے سے بنی ہے، پیدا کیا ہے۔‘‘
قرآنِ کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ کفار نے ہمیشہ انبیائے کرام علیہم السلام کی اتباع سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ تو بشر ہیں، کیا ہم بشر کو رسول مان لیں؟
ﵟ فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٗا مِّنَّا وَٰحِدٗا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٍ ٢٤ ﵞ (القمر ٢٤)
ترجمہ:۔ ’’پس کہنے لگے: کیا ہم ایسے شخص کی اتباع کریں گے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور اکیلا ہے، تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور جنون میں پڑجائیں گے۔‘‘
ﵟ وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرٗا رَّسُولٗا ٩٤ قُل لَّوۡ كَانَ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَلَٰٓئِكَةٞ يَمۡشُونَ مُطۡمَئِنِّينَ لَنَزَّلۡنَا عَلَيۡهِم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَلَكٗا رَّسُولٗا ٩٥ ﵞ(الإسراء ٩٤ و ٩٥)
ترجمہ:۔ ’’اور جس وقت ان لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکی اس وقت ان کو ایمان لانے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہ ہوئی کہ انہوں نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے بشر کو رسول بناکر بھیجا ہے؟ آپ فرمادیجئے: اگر زمین میں فرشتے رہتے ہوتے کہ اس میں چلتے بستے تو البتہ ہم ان پر آسمان سے فرشتے کو رسول بناکر بھیجتے۔‘‘
ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں، گویا کسی نبی کی نبوّت پر ایمان لانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان کو بشر اور رسول تسلیم کیا جائے، اسی لئے تمام اہلِ سنت کے ہاں ’’رسول‘‘ کی تعریف یہ کی گئی ہے:
’’اَلْإِنْسَانُ، بَعَثَهُ اللّٰهُ لِتَبْلِيْغِ الرِّسَالَةِ وَالْأَحْكَامِ۔‘‘ (شرح عقائد نسفی ص:۱۶ طبع خیر کثیر)
ترجمہ:۔ ’’رسول وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ اپنے پیغامات اور اَحکام بندوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث فرماتے ہیں۔‘‘
جس طرح قرآنِ کریم نے انبیائے کرام علیہم السلام کی بشریت کا اعلان فرمایا ہے، اسی طرح احادیثِ طیبہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بغیر کسی دغدغہ کے اپنی بشریت کا اعلان فرمایا ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جہاں یہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میرا نور تخلیق کیا گیا (اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کرلیا جائے) وہاں یہ بھی فرماتے ہیں:
۱:۔’’اَللّٰهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْهُ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا۔‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۳۲۳ عن عائشہؓ)
ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہی ہوں، پس جس مسلمان پر میں نے لعنت کی ہو، یا اسے برا بھلا کہا ہو، آپ اس کو اس شخص کے لئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنادے۔‘‘
۲:۔’’اللّٰهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيْهِ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ آذَيْتُهُ، شَتَمْتُهُ، لَعَنْتُهُ، جَلَدْتُهُ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَزَكَاةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔‘‘(مسلم ج:۲ ص:۳۲۴ عن ابی ہریرہرض)
ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! میں آپ کے یہاں سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں، آپ اس کے خلاف نہ کیجئے! کیونکہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں، پس جس مؤمن کو میں نے ایذا دی ہو، گالی دی ہو، لعنت کی ہو، اس کو مارا ہو، آپ اس کے لئے اس کو رحمت و پاکیزگی بنادیجئے کہ آپ اس کی وجہ سے اس کو قیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمائیں۔‘‘
۳:۔ ’’اللّٰهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ (صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) بَشَرٌ يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ ۔ الحدیث۔‘‘ (عن ابی ہریرہؓ مسلم ج:۲ ص:۳۲۴)
ترجمہ:۔ ’’اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی ایک انسان ہی ہیں، ان کو بھی غصہ آتا ہے جس طرح اور اِنسانوں کو غصہ آتا ہے۔‘‘
۴:۔ ’’إِنِّيَ اشْتَرَطْتُ عَلٰی رَبِّي فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَرْضٰی كَمَا يَرْضٰی الْبَشَرُ، وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ۔‘‘ (مسلم ج:۲ ص:۳۲۴ عن انسؓ)
ترجمہ:۔ ’’میں نے اپنے رَبّ سے ایک شرط کرلی ہے، میں نے کہا کہ: میں بھی ایک انسان ہی ہوں، میں بھی خوش ہوتا ہوں، جس طرح انسان خوش ہوتے ہیں اور غصہ ہوتا ہوں جس طرح دوسرے انسان غصہ ہوتے ہیں۔‘‘
۵:۔ ’’إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّهُ يَأْتِينِيَ الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُوْنَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِذٰلِكَ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا۔‘‘ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۳۲، مسلم ج:۲ ص:۷۴ عن اُمِّ سلمہؓ)
ترجمہ:۔ ’’میں بھی ایک آدمی ہوں اور میرے پاس مقدمہ کے فریق آتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض زیادہ زبان آور ہوں، پس میں اس کو سچا سمجھ کر اس کے حق میں فیصلہ کردوں، پس جس کے لئے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کردوں، وہ محض آگ کا ٹکڑا ہے، اب چاہے وہ اسے اٹھالے جائے، اور چاہے چھوڑ جائے۔‘‘
۶:۔ ’’إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أَنْسٰی كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُوْنِي۔‘‘(صحیح بخاری ج:۱ ص:۵۸، صحیح مسلم ج:۱ ص:۲۱۲ عن ابن مسعودؓ)
ترجمہ:۔ ’’میں بھی تم جیسا انسان ہی ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو، پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلادیا کرو۔‘‘
۷:۔ ’’إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوْا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِي فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۶۴ عن رافع بن خدیجؓ)
ترجمہ:۔ ’’میں بھی ایک انسان ہی ہوں، جب تم کو دِین کی کسی بات کا حکم کروں تو اسے لے لو اور جب تم کو (کسی دُنیوی معاملے میں) اپنی رائے سے بطور مشورہ کوئی حکم دُوں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں۔‘‘
۸:۔ ’’اَلَا أَيُّهَا النَّاسُ! فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، يُوْشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُوْلُ رَبِّي فَأُجِيْبُ ۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۷۹ عن زید بن ارقم ؓ)
ترجمہ:۔ ’’سنو! اے لوگو! پس میں بھی ایک انسان ہی ہوں، قریب ہے کہ میرے رَبّ کا قاصد (یہاں سے کوچ کا پیغام لے کر) آئے تو میں اس کو لبیک کہوں۔‘‘
قرآنِ کریم اور ارشاداتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صفتِ نور کے ساتھ موصوف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کی نفی کردی جائے، نہ ان نصوصِ قطعیہ کے ہوتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار ممکن ہے۔
میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ بشریت کوئی عار اور عیب کی چیز نہیں، جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب کرنا سوئِ ادب کا موجب ہو، بشر اور انسان تو اشرف المخلوقات ہے، اس لئے بشریت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال ہے، نقص نہیں، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشرف المخلوقات میں سب سے اشرف و افضل ہونا خود اِنسانیت کے لئے مایۂ اِفتخار ہے۔
’’اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشر، انسان اور آدمی ہونا نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے طرۂ اِفتخار ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بشر ہونے سے اِنسانیت و بشریت رشکِ ملائکہ ہے۔‘‘ (اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ج:۱ ص:۳۵)
یہی عقیدہ اکابر اور سلف صالحین کا تھا، چنانچہ قاضی عیاض رحمہ اللہ ’’الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ (صلی اﷲ علیہ وسلم)‘‘ القسم الثانی ص:۱۵۷، مطبوعہ ملتان میں لکھتے ہیں:
’’قَدْ قَدَّمْنَا أَنَّهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَائِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ مِنَ الْبَشَرِ، وَأَنَّ جِسْمَهُ وَظَاهِرَهُ خَالِصٌ لِلْبَشَرِ، يَجُوْزُ عَلَيْهِ مِنَ الْآفَاتِ وَالتَّغَيُّرَاتِ وَالْآلَامِ وَالْأَسْقَامِ وَتَجَرُّعِ كَأْسِ الْحِمَامِ مَا يَجُوْزُ عَلَى الْبَشَرِ، وَهٰذَا كُلُّهُ لَيْسَ بِنَقِيْصَةٍ، لِأَنَّ الشَّيْءَ إِنَّمَا يُسَمَّى نَاقِصًا بِالْإِضَافَةِ إِلٰى مَا هُوَ أَتَمُّ مِنْهُ وَأَكْمَلُ مِنْ نَوْعِهِ، وَقَدْ كَتَبَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى أَهْلِ هٰذِهِ الدَّارِ: فِيْهَا يَحْيَوْنَ وَفِيْهَا يَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا يُخْرَجُوْنَ، وَخَلَقَ جَمِيْعَ الْبَشَرِ بِمَدْرَجَةِ الْغَيْرِ ۔‘‘
ترجمہ:۔ ’’ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء و رُسل نوعِ بشر میں سے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک اور ظاہر خالص بشر کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمِ اطہر پر وہ تمام آفات و تغیرات اور تکالیف و امراض اور موت کے احوال طاری ہوسکتے تھے۔ جو اِنسان پر طاری ہوتے ہیں اور یہ تمام اُمور کوئی نقص اور عیب نہیں، کیونکہ کوئی چیز ناقص اس وقت کہلاتی ہے جبکہ اس کی نوع میں سے کوئی دُوسری چیز اَتم و اَکمل ہو، دارِ دُنیا کے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات مقدّر فرمادی کہ وہ زمین میں جئیں گے، یہیں مریں گے اور یہیں سے نکالے جائیں گے، اور تمام اِنسانوں کو اللہ تعالیٰ نے تغیر کا محل بنایا ہے۔‘‘
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکالیف کی چند مثالیں پیش کرنے کے بعد ص:۱۵۸، ۱۵۹ پر لکھتے ہیں:
’’وَهٰكَذَا سَائِرُ أَنْبِيَائِهِ مُبْتَلًى وَمُعَافًى، وَذٰلِكَ مِنْ تَمَامِ حِكْمَتِهِ لِيَظْهَرَ شَرَفُهُمْ فِيْ هٰذِهِ الْمَقَامَاتِ، وَيُبَيِّنَ أَمْرَهُمْ، وَيُتِمَّ كَلِمَتَهُ فِيْهِمْ، وَلِيُحَقِّقَ بَشَرِيَّتَهُمْ، وَيَرْتَفِعَ الْاِلْتِبَاسُ مِنْ أَهْلِ الضَّعْفِ فِيْهِمْ، لِئَلَّا يَضِلُّوْا بِمَا يَظْهَرُ مِنَ الْعَجَائِبِ عَلٰى أَيْدِيْهِمْ، ضَلَالَ النَّصَارٰى بِعِيْسٰى بْنِ مَرْيَمَ. قَالَ بَعْضُ الْمُحَقِّقِيْنَ: وَهٰذِهِ الطَّوَارِيْ وَالتَّغَيُّرَاتُ الْمَذْكُوْرَةُ إِنَّمَا تَخْتَصُّ بِأَجْسَامِهِمُ الْبَشَرِيَّةَ الْمَقْصُوْدَةُ بِهَا مُقَاوَمَةُ الْبَشَرِ وَمُعَانَاةُ بَنِيْ آدَمَ لِمُشَاكَلَةِ الْجِنْسِ، وَأَمَّا يُوَاطِئُهُمْ فَمُنَزَّهَةٌ غَالِبًا عَنْ ذٰلِكَ مَعْصُوْمَةٌ مِنْهُ، مُتَعَلِّقَةٌ بِالْمَلَإِ الْأَعْلٰى وَالْمَلَائِكَةِ لِأَخْذِهَا عَنْهُمْ وَتَلَقِّيْهَا الْوَحْيَ مِنْهُمْ۔‘‘ (الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ ج:۲ ص:۱۵۷، ۱۵۹)
ترجمہ:۔ ’’اسی طرح دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کہ وہ تکالیف میں بھی مبتلا ہوئے اور ان کو عافیت سے بھی نوازا گیا، اور یہ حق تعالیٰ کی کمالِ حکمت تھی، تاکہ ان مقامات میں ان حضرات کا شرف ظاہر ہو، اور ان کا معاملہ واضح ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی بات ان کے حق میں پوری ہوجائے، اور تاکہ اللہ تعالیٰ ان کی بشریت کو ثابت کردے اور اُمت کے اہلِ ضعف کو ان کے بارے جو اِلتباس ہوسکتا تھا وہ اُٹھ جائے، تاکہ ان عجائبات کی وجہ سے جو ان حضرات کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں، گمراہ نہ ہوجائیں۔ جس طرح نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں گمراہ ہوئے۔ بعض محققین نے فرمایا ہے کہ: یہ عوارض اور تغیراتِ مذکورہ ان بشری اجسام کے ساتھ مخصوص ہیں جن سے مقصود بشریت کی مقاومت اور بنی آدم کی مشقتوں کا برداشت کرنا ہے، تاکہ ہم جنسوں کے ساتھ مشاکلت ہو، لیکن ان کی اَرواحِ طیبہ ان اُمور سے متأثر نہیں ہوتیں، بلکہ وہ معصوم و منزہ اور ملأ اعلیٰ اور فرشتوں سے تعلق رکھتی ہیں، کیونکہ وہ فرشتوں سے علوم اَخذ کرتی ہیں، اور ان سے وحی اَخذ کرتی ہیں۔‘‘
الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نور ہونے کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوعِ انسان میں داخل نہیں۔ آپ نے جو حوالے نقل کئے ہیں ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نور کی صفت کا اثبات کیا گیا ہے، مگر اس سے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشریت کا انکار لازم نہیں آتا، اس لئے وہ میرے مدعا کے خلاف نہیں، اور نہ میرا عقیدہ ان بزرگوں سے الگ ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ’’نشر الطیب‘‘(۲) میں سب سے پہلے نورِ محمدی (علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والتسلیمات) کی تخلیق کا بیان فرمایا ہے، اور اس کے ذیل میں وہ احادیث نقل کی ہیں جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے۔ لیکن حضرتؒ نے نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح بھی فرمادی ہے، چنانچہ پہلی روایت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مسندِ عبدالرزّاق کے حوالے سے یہ نقل کی ہے:
’’آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: اے جابر! اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے (نہ بایں معنی کہ نورِ الٰہی اس کا مادّہ تھا، بلکہ اپنے نور کے فیض سے) پیدا کیا ۔۔۔۔۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اور مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کئے، ایک حصے سے قلم پیدا کیا، دُوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش، آگے حدیث طویل ہے۔‘‘
اس کے فائدہ میں لکھتے ہیں:
’’اس حدیث سے نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اوّل الخلق ہونا باوّلیتِ حقیقیہ ثابت ہوا، کیونکہ جن جن اشیاء کی نسبت روایات میں اَوّلیت کا حکم آیا ہے، ان اشیاء کا نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے متأخر ہونا اس حدیث میں منصوص ہے۔‘‘
اور اس کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں:
’’ظاہراً نورِ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) رُوحِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عبارت ہے، اور حقیقت رُوح کی اکثر محققین کے قول پر مادّہ سے مجرّد ہے، اور مجرّد کا مادّیات کے لئے مادّہ ہونا ممکن نہیں۔ پس ظاہراً اس نور کے فیض سے کوئی مادّہ بنایا گیا اور اس مادّہ سے چار حصے کئے گئے ۔۔۔۔ الخ۔ اور اس مادّہ سے پھر کسی مجرّد کا بننا اس طرح ممکن ہوا کہ وہ مادّہ اس کا جزو نہ ہو، بلکہ کسی طریق سے محض اس کا سبب خارج عن الذات ہو۔‘‘
دُوسری روایت جس میں فرمایا گیا ہے کہ: بے شک میں حق تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیّین ہوچکا تھا، اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر ہی میں پڑے تھے ۔۔۔۔ اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:
’’اور اس وقت ظاہر ہے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بدن تو بنا ہی نہ تھا، تو پھر نبوّت کی صفت آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی رُوح کو عطا ہوئی تھی، اور نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) اسی رُوحِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نام ہے، جیسا اُوپر مذکور ہوا۔‘‘
اور حضرت تھانویؒ کی تشریح سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کے خدا تعالیٰ کے نور سے پیدا کئے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ نورِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) نعوذ باللہ! نورِ خداوندی کا کوئی حصہ ہے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ نورِ خداوندی کا فیضان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحِ مقدسہ کی تخلیق کا باعث ہوا۔
آپ نے قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی ’’امداد السلوک‘‘ کا حوالہ دیا ہے کہ:
’’احادیثِ متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سایہ نہیں رکھتے تھے، اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں۔‘‘
’’امداد السلوک‘‘ کا فارسی نسخہ تو میرے سامنے نہیں، البتہ اس کا اُردو ترجمہ جو حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی نے ’’ارشاد الملوک‘‘ کے نام سے کیا ہے، اس کی متعلقہ عبارت یہ ہے:
’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تو اولادِ آدم ہی میں ہیں، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کو اتنا مطہر بنالیا تھا کہ نورِ خالص بن گئے، اور حق تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور فرمایا۔ اور شہرت سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا، اور ظاہر ہے کہ نور کے علاوہ ہر جسم کے سایہ ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو اس قدر تزکیہ اور تصفیہ بخشا کہ وہ بھی نور بن گئے، چنانچہ ان کی کرامات وغیرہ کی حکایتوں سے کتابیں پُر اور اتنی مشہور ہیں کہ نقل کی حاجت نہیں۔ نیز حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ’’جو لوگ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر اِیمان لائے، ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑتا ہوگا۔‘‘ اور دُوسری جگہ فرمایا ہے کہ: ’’یاد کرو اس دن کو جبکہ مؤمنین کا نور ان کے آگے اور داہنی طرف دوڑتا ہوگا، اور منافقین کہیں گے کہ ذرا ٹھہر جاؤ تاکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ اَخذ کریں‘‘ ان دونوں آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت سے ایمان اور نور دونوں حاصل ہوتے ہیں۔‘‘ (ارشاد الملوک مطبوعہ سہارنپور ص:۱۱۴، ۱۱۵)
- (۱) ﵟ لَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ فِيٓ أَحۡسَنِ تَقۡوِيمٖ ٤ ﵞ التين ٤۔
- (۲) نشر الطیب ص:۵، ۶ پہلی فصل نورِ محمدی کے بیان میں۔ طبع کتب خانہ اشاعت العلوم، سہارنپور۔

