محاسنِ اسلام
اسلامی ممالک میں غیرمذہب کی تبلیغ پر پابندی تنگ نظری نہیں
سوال:۔
پہلے آپ میرے اس سوال کا جواب دیں کہ ہمارا اسلام تنگ نظر مذہب ہے؟ اگر آپ کا جواب نہیں میں ہے جو یقینا نہیں میں ہوگا تو پھر اس ’’نہیں‘‘ کی روشنی میں میرے ذہن میں موجود اصل مسئلے کا جواب دیں کہ جب اسلام اپنی تبلیغ کا حکم دیتا ہے تو پھر دُوسرے مذاہب پر کیوں پابندی لگادیتا ہے؟ کیا اسلام کے پیروکاروں کو اِستقلال اور ثابت قدمی پر شک ہے جو ان کے اوّلین اُصولوں میں ایک ہے۔
پھر یہ کہ جب اسلامی مملکتوں میں دُوسرے مذاہب کی تبلیغ قانوناً ممنوع ہے تو کیا یہ خطرہ تو نہیں کہ غیرمسلم مملکتیں اسلام کی تبلیغ کے بارے میں ایسے ہی قوانین بناڈالیں۔ اگر کہیں ایسا ہوگیا تو اسلام کی تبلیغ کہاں اور کیونکر ہوگی؟ اور کیا موجودہ طریقۂ کار سے دُوسرے مذاہب کی سرگرمیوں کو خفیہ فروغ تو حاصل نہیں ہو رہا؟ اُمید ہے میرے ان سوالات کا تفصیلی جواب دے کر آپ میرے اور میرے حوالے سے کئی نوجوانوں کے ذہن میں موجود اس اُلجھن اور تشویش کو دُور کریں گے؟
جواب:۔
اپنے حریم میں کسی کو گھسنے نہ دینا تنگ نظری نہیں کہلاتی، حمیت و غیرت کہلاتی ہے! اسلام اگر تنگ نظر نہیں ہے تو بے غیرت بھی نہیں۔ اگر کوئی شخص کسی کی بیوی کو اپنی طرف علانیہ دعوت دینے لگے تو کیا شوہر اس کو برداشت کرے گا؟ اور کیا کوئی عقل مند اس کو تنگ نظری کا طعنہ دے گا؟ اور کیا یہ کہا جائے گا کہ اس کو اپنی بیوی پر اِعتماد نہیں، اس لئے بُرا مناتا ہے۔۔۔؟ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ ہم سے زیادہ باغیرت ہے اور اس کا دِین انسانی ناموس سے زیادہ مقدس ہے۔(۱)
رہا آپ کا یہ اِشکال کہ اگر اسلامی مملکت میں غیرمذاہب کو اپنی تبلیغ کرنے پر پابندی ہوگی تو غیرمسلم مملکتیں اپنے یہاں بھی مسلمانوں پر پابندی عائد کردیں گی کہ وہ تبلیغ نہ کریں۔ تو جناب! حقیقت یہ ہے کہ مغرب کی عیسائی مملکتیں جنھیں عام طور پر فراخ دِل ’’لبرل‘‘ تصوّر کیا جاتا ہے مسلمانوں کی تبلیغ کے معاملے میں انتہائی متعصب ہوتی ہیں۔ ان کے ملکوں میں عیسائیوں کو اِسلام کی دعوت دینا تو درکنار ذرا آپ مسلمانوں کو ہی اسلام کی تعلیم دینے کے لئے کوئی مسجد یا مدرسہ تعمیر کرلیں تو دیکھیں۔ یہ جو آپ سنتے ہیں کہ انگلینڈ میں اتنی سو مساجد ہیں، یہ زیادہ تر خفیہ طور پر گھروں میں ہوتی ہیں، جن کے اندر دروازے بند کرکے اَذان دی جاتی ہے، وہ بھی بغیر مائک کے اور ہلکی آواز سے۔ اور جو آپ لندن یا دُوسرے شہروں میں کوئی اعلانیہ مسجد دیکھتے ہیں تو اس کے پیچھے کئی سالوں پر محیط صبرآزما جدوجہد کارفرما ہوتی ہے۔ آپ کو دو مثالیں پیش کرتا ہوں۔
لندن دُنیا کا بڑا مرکز ہے، مسلمانوں کی بڑی آبادی کے علاوہ وہاں چالیس پچاس مسلم ممالک کے سفیر اور ان کے متعلقین رہتے ہیں، سالوں کی جدوجہد اور عرب سربراہان کے زور ڈالنے پر ریجنٹ پارک میں مسجد بنانے کی اجازت ملی، اس کا مینار کہیں لندن کے سینٹ پال چرچ کے مینار سے زیادہ بلند ہو رہا تھا فوراً شرط عائد ہوئی کہ مسجد کا مینار اس چرچ سے اُونچا نہ ہو، جبکہ وہ چرچ ریجنٹ پارک سے دُور واقع ہے، اور اَذانوں کی آواز پر بھی ایک نوع کی پابندی ہے۔ اب سنئے مسلمانوں کی تعلیم کے لئے ایک مدرسہ کے قیام کے لئے مانچسٹر بولٹن کے نزدیک پانچ سال کی تھکادینے والی جدوجہد کے بعد اِجازت ملی کہ آپ مسلمان بچوں کے لئے اسلامی دِینی مدرسہ بناسکتے ہیں۔ یہ کراچی یا پاکستان کی فراخ دِل، لبرل، مشنری مشنوں کے رُموز سے بے نیاز حکومت تھوڑی ہی ہے کہ کہیں تو عیسائیوں کی ’’سیلولیشن آرمی‘‘ (نجات کی فوج) ہے اور کہیں بہترین علاقوں جیسے کہ صدر میں بلند سے بلند ترین گرجا گھر ہیں، جو سونے جیسی زمین میں وسیع و عریض رقبوں پر محیط ہیں۔
یہ سب اس کے علاوہ ہے کہ مشنری اسکول کالج روز افزوں ہیں، جو اگر مرتد نہیں بناسکتے تو راسخ العقیدہ مسلمان بھی نہیں رہنے دیتے۔ امریکا کی ’’وسعتِ نظری‘‘ کی مثال ایک پاکستانی دردمند مسلمان نے بیان کی۔ وہ شکاگو میں رہتے ہیں، جب انہوں نے یہاں عیسائیوں کی یہ ہمہ گیری، مشنری اسکول، مشنری اسپتال، گرجا گھروں اور عیسائی نمائندوں کی دیکھی جو قومی و صوبائی اسمبلی میں براجمان ہوتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ امریکا میں تو ایک مسلمان ’’سنڈے اسکول‘‘ کھولنے کے لئے بھی برسوں لگ جاتے ہیں، پہلے تو جس محلہ میں ’’سنڈے اسکول‘‘ کھولنا ہوتا ہے وہاں کی آبادی کی ’’پبلک ہیرنگ‘‘ کرائی جاتی ہے، باقاعدہ ووٹنگ ہوتی ہے کہ کتنے باشندے اسکول یا مسجد کی تعمیر کے حق میں ہیں، تو ظاہر ہے کہ عیسائی آبادی اپنی اکثریت کی بنا پر اس کو رَدّ کردیتی ہے، پھر ضلعی کورٹ، ہائی کورٹ میں مقدمہ پیش ہوتا ہے۔ ہر جگہ سے ہار ہار کر انجام کار سپریم کورٹ سے مسلمان اسکول کے حق میں فیصلہ ہوتا ہے، اس میں دس سال گزر جاتے ہیں۔ امریکی کورٹ کے زبردست اِخراجات میں مسلمانوں کا فنڈ کنگال ہوجاتا ہے اور مسلمان ’’سنڈے اسکول‘‘ کا خواب اس ’’لبرل‘‘ ملک میں شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔
رہا یہ کہ کوئی مسلمان محض اقلیت کی بنا پر پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا ممبر بن جائے، یہ ناممکنات میں سے ہے، اُن ’’لبرل، فراخ دِل، وسیع النظر‘‘ حکومتوں نے اقلیتوں کے نمائندوں کو پارلیمنٹ اور اسمبلی میں پہنچانے کا ٹنٹا نہیں پالا۔
- (۱) عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا حد أغیر من اللہ فلذٰلک حرم الفواحش ما ظھر منھا وما بطن ۔۔۔ (صحیح بخاری ج:۲ ص:۶۶۸ طبع نور محمد کراچی)۔

