محاسنِ اسلام
نظامِ اسلام کی مخالفت کرنے والوں کا شرعی حکم
سوال:۔
پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمانوں کی اکثریت ہے، اور حکمراں بھی مسلمان ہیں، لیکن ان ملکوں کا نظامِ زندگی دِینِ انگریز پر چل رہا ہے، اور دِینِ اسلام، دِینِ انگریز (لادِینی نظام) کے تابع بناکر رکھا گیا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی غیر مسلم اقلیتیں اور حکمراں طبقہ ان مسلم ملکوں میں دِینِ انگریز جو لادِینی نظامِ زندگی ہے، ختم کرنے پر سخت ناراض ہیں، اور سخت مخالف ہیں، اس بارے میں مسلمانوں کے لئے اور غیرمسلم اقلیتوں کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔
اسلامی شریعت تو لادِینی نظام کی دُشمن ہے، قرآنِ کریم میں جگہ جگہ: ’’مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَۚ‘‘ کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ بھی اعلان فرمایا گیا کہ: ﵟ أَلَا لِلَّهِ ٱلدِّينُ ٱلۡخَالِصُۚ ﵞ (الزمر ٣)۔ غیرمسلم اقلیتیں اگر یہ چاہتی ہیں کہ مسلمان نظامِ شریعت کو نہ اپنائیں بلکہ انگریز کے دِینِ لادِینیت کے تابع رہیں، تو مسلمان حکمرانوں کو ان کی یہ خواہش پوری نہیں کرنی چاہئے۔ قرآنِ کریم میں ہے کہ: ’’یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی کرلو ۔۔۔۔۔۔ اور اگر تم نے ان کی خواہشات کی پیروی کرلی بعد اس کے تمہارے پاس علم آچکا ہے، تو تمہارے لئے اللہ سے کوئی دوست اور حمایتی نہیں رہے گا۔‘‘(۱)
الغرض مسلمانوں کا فرض ہے کہ انسانی خواہشات کے بجائے اَحکامِ ربانی اور شریعتِ محمدی کی تعمیل میں سرگرم ہوں اور دُشمنانِ دِین کے منصوبوں کو خاک میں ملادیں۔
- (۱)ﵟ وَلَن تَرۡضَىٰ عَنكَ ٱلۡيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡۗ ٠٠٠٠٠٠ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم بَعۡدَ ٱلَّذِي جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ ١٢٠ ﵞ البقرة ١٢٠۔

