بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

محاسنِ اسلام

’’بنیاد پرستی‘‘ کا مفہوم

سوال:۔

آج کل تمام مغربی اقوام اور سپر طاقتیں (نام نہاد) ان تمام تحریکوں سے یا ان تمام اسلامی ممالک سے اس قدر خائف ہیں جو اپنے اپنے ملکی نظام کو خالص اسلامی نظام میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ اسی بنا پر ایسے نظام اپنانے والوں کو اَقوامِ مغرب ’’بنیاد پرست، مذہب پرست‘‘ وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ خود ہی اقرار کرلیتے ہیں کہ ان کے پاس بنیاد موجود ہے۔ الحمدللہ! تمام مسلمانوں کو آج بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کے پاس بنیاد ’’قرآنِ پاک‘‘ کی صورت میں موجود ہے۔ جس تنظیم یا تحریک یا ملک نے خالص اسلامی نظامِ قرآن رائج کرنے کی کوشش کی اسے ’’بنیاد پرست‘‘ کہا گیا ہے۔ براہِ کرم یہ بتائیں کہ:

۱:۔ اگر قرآنِ پاک کا خالص اسلامی نظام رائج کردیا جائے تو ’’بنیاد پرستی‘‘ کا لفظ قابلِ قبول ہے مسلمانوں کے لئے؟ (کیونکہ ’’بنیاد پرستی‘‘ کے معنی یورپی اقوام کی نظر میں ’’رجعت پسندی‘‘ کے لئے جاتے ہیں) جبکہ مغربی اقوام کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہے۔

۲:۔ کیا مسلمان قرآنِ پاک کا حامل ہونے کی بنا پر ’’بنیاد پرست‘‘ ہی تسلیم کیا جاتا ہے؟

جواب:۔

’’بنیاد پرستی‘‘ اور ’’رجعت پسندی‘‘ کے اگر یہی معنی ہیں کہ آدمی، اللہ تعالیٰ کے اَحکام کے مطابق زندگی بسر کرے تو اس سے بڑھ کر کسی مسلمان کے لئے اور کیا اِعزاز ہوسکتا ہے۔۔۔؟

اصل بات یہ ہے کہ اقوامِ مغرب کے پاس کوئی آسمانی نظام موجود نہیں، جس کے مطابق وہ زندگی گزاریں، اس لئے انہوں نے مذہب کو ہر شخص کا نجی اور ذاتی معاملہ قرار دے رکھا ہے، ان کے دِین کو، ان کی اجتماعی اور معاشرتی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ مسلمانوں کے پاس کامل و مکمل آسمانی ہدایت نامہ موجود ہے، جو زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی، سماجی و سیاسی، معاشی و معاشرتی شعبوں میں انسانیت کی راہنمائی کرتا ہے۔

اقوامِ مغرب، مسلمانوں کی اس قوّت سے آگاہ ہیں، اور انہیں ہر لحظہ یہ خطرہ رہتا ہے کہ اگر مسلمانوں نے اس آسمانی و رُوحانی نظام کو اَپنالیا تو مسلمان پھر دُنیا پر اسی طرح چھا جائیں گے جس طرح قرونِ اُوْلیٰ میں ایک قلیل عرصے میں دُنیا بھر کے باطل نظاموں پر غلبہ و تفوّق حاصل کرلیا تھا۔ اس لئے وہ مسلمانوں کو اس نظام سے بدظن کرنے کے لئے طرح طرح کے شگوفے چھوڑتے رہے ہیں۔ ’’بنیاد پرستی‘‘ اور ’’رجعت پسندی‘‘ کا طعنہ بھی انہیں اوچھے ہتھیاروں میں سے ایک ہے۔