محاسنِ اسلام
اسلام دُوسرے مذاہب سے کن کن باتوں میں افضل ہے؟
سوال:۔
قریب قریب دُنیا کے سارے مذاہب انسانی فلاح و ابدی سکون (بہتر آخرت) کی ہدایات دیتے رہے ہیں، بے شک اسلام دُنیا کا آخری اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوا سچا مذہب ہے، جس کی گواہی دُنیا کے بڑے بڑے مذاہب، توریت، اِنجیل اور زَبور سے ملتی ہے۔ ذرا تفصیل سے بتائیں کہ اسلام کی کون سی چیز اور کون سے حقائق اسے دُوسرے مذاہب سے افضل تر بتاتے ہیں؟
جواب:۔
ایک تابعیؒ نے اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا تھا کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بہت ہی عجیب سی بات بتائیے، جواب میں انہوں نے فرمایا: بیٹا! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات ایسی ہے جو عجیب نہیں تھی!(۱)
اُمّ المؤمنین رضی اللہ عنہا کا یہی ارشاد آپ کے سوال کا جواب ہے، آپ دریافت فرماتے ہیں کہ اسلام کس بات میں دُوسرے مذاہب سے افضل ہے؟
ہماری گزارش یہ ہے کہ اسلام کی کون سی چیز دُوسرے مذاہب سے افضل و برتر نہیں؟ عقائد و عبادات کی جو تفصیل اسلام نے پیش کی ہے، کیا دُنیا کا کوئی مذہب یہ تفصیل پیش کرتا ہے؟ اخلاق، معاملات، معاشرت اور سیاست کے بارے میں اسلام نے جو تفصیلی ہدایات عطا کی ہیں، کیا یہ ہدایات کسی دُوسرے مذہب کی کتابوں میں ڈھونڈنے سے بھی ملتی ہیں؟
پھر اسلام اپنے ہر حکم میں جو کامل اعتدال ملحوظ رکھتا ہے، کیا دُنیا کے کسی مذہب میں اس اعتدال کی نظیر ملتی ہے؟ اور ساری باتوں کو چھوڑ کر آپ صرف ایک نکتے پر غور فرمائیے کہ وہ تمام بڑے بڑے مذاہب جو آج دُنیا میں موجود ہیں، انہوں نے کسی نہ کسی شکل میں انسان کا سر مخلوق کے آگے جھکایا، کسی نے آگ اور پانی کے سامنے، کسی نے حیوانات کے سامنے، کسی نے سورج چاند اور اَجرامِ فلکی کے سامنے، اور کسی نے خود اِنسانی ہستیوں کے آگے، اسلام دُنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے انسان کو ’’اشرف المخلوقات‘‘ کا بلند ترین منصب عطا کیا، اس کے صحیح مقام سے آگاہ کیا، اور اسے اپنے جیسی مخلوق کی بندگی سے نجات دِلاکر خالقِ کائنات کی بندگی کی راہ دِکھائی۔ اسلام ہی نے دُنیا کو بتایا کہ انسان کائنات کی پرستش کے لئے نہیں بلکہ خود کائنات اس کی خدمت کے لئے ہے، یہ اسلام کا انسانیت پر وہ احسان ہے جس کے شکر سے وہ کبھی عہدہ برآ نہیں ہوسکتی، اور یہ اسلام کا وہ طرۂ امتیاز ہے جس میں دُنیا کا کوئی مذہب اس کے ساتھ ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
یہ آپ کے سوال کا بہت ہی مختصر سا جواب ہے، جس کی تفصیل کے لئے ایک ضخیم تصنیف کی ضرورت ہے۔
- (۱) عن عطاء قال: دخلت أنا وعبداللہ بن عمر وعبید بن عمیر علٰی أمّ المؤمنین عائشۃ رضی اللہ عنھا ۔۔۔ أخبرینا بأعجب ما رأیت من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قال: فبکت وقالت: کل أمرہ کان عجبًا ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر ابن کثیر ج:۲ ص:۱۶۹)

