بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تقدیر

کیا حلال اور حرام کمانا قسمت میں لکھا ہوتا ہے؟

سوال:۔

کئی دوستوں سے سنا ہے کہ دولت جتنی قسمت میں لکھی ہے، وہی ملے گی۔ چاہے بندہ جائز طریقے سے حاصل کرلے، چاہے ناجائز طریقے سے۔ میرے خیال میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا روپیہ قسمت میں نہیں لکھا ہوتا، بلکہ یہ ایک اضافی گناہ ہے۔ کون سا موقف دُرست ہے؟

جواب:۔

دوستوں کا کہنا صحیح ہے، کسی کی قسمت میں حلال لکھا ہے، کسی کی قسمت میں حرام۔(۱) اور حرام کمانے اور کھانے پر وہ گناہگار ہوگا، کیونکہ قسمت میں لکھا ہونے سے وہ مجبور نہیں ہوجاتا۔ یا یوں کہا جائے کہ قسمت میں لکھا ہے کہ وہ اپنے اختیار سے حرام کمائے گا۔(۲)

  1. (۱) ان الحرام رزق، لأنّ الرّزق اسم لما یسوقہ اللہ تعالٰی الی الحیوان فیتناولہ وینتفع بہ، وذٰلک قد یکون حلالًا وقد یکون حرامًا۔ (شرح فقہ اکبر ص:۱۵۵)۔
  2. (۲) وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ۔ (شرح فقہ اکبر ص:۵۱)۔