بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تقدیر

تقدیر بنانا

سوال:۔

کیا انسان اپنا اچھا مستقبل خود بناتا ہے یا اللہ تعالیٰ اس کا مستقبل شاندار بناتا ہے؟ میرا نظریہ یہ ہے کہ انسان اپنی دِماغی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی قسمت خود بناتا ہے، جبکہ میرے ایک دوست کا نظریہ مجھ سے مختلف ہے، اس کا کہنا ہے کہ انسان اپنا اچھا مستقبل خود نہیں بناسکتا، بلکہ ہر آدمی کی قسمت اللہ تعالیٰ بناتا ہے۔

جواب:۔

انسان کو اچھائی بُرائی کا اختیار ضرور دیا گیا ہے،(۱) لیکن وہ اپنی قسمت کا مالک نہیں، قسمت اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے، اس لئے یہ کہنا کہ انسان اپنی تقدیر کا خود خالق ہے یا یہ کہ اپنی تقدیر خود بناتا ہے، اسلامی عقیدے کے خلاف ہے۔(۲)

  1. (۱) واللہ تعالٰی خالق لأفعال العباد ۔۔۔ وللعباد أفعال اختیاریۃ یثابون بھا ان کانت طاعۃ ویعاقبون علیھا ان کانت معصیۃ ۔۔۔الخ۔ (شرح العقائد ص:۸۱)۔
  2. (۲) عن ابن عمر ۔۔۔ کل شیء بقدر حتی العجز والکیس۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۱۹، باب الْإیمان بالقدر)۔